کراچی : پی آئی اے کے ایئر کرافٹ انجینئرز اپنے مطالبات کے حق میں گزشتہ ڈھائی ماہ سے احتجاجاً کالی پٹیاں باندھ کر اپنی ڈیوٹیاں انجام دے رہے تھے۔
اس حوالے سے سوسائٹی آف ایئرکرافٹ انجینئرز سیپ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ طویل اور پُرامن احتجاج کے باوجود قومی ایئر لائن انتظامیہ انجینئرز سے بات کرنے کیلئے تیار نہ تھی۔
سیپ ذرائع کے مطابق ایئرکرافٹ انجینئرز کی تنخواہیں 8سال سے نہیں بڑھائی گئیں، ایئرلائن کے پاس طیاروں کے فاضل پرزہ جات کی شدید کمی ہے۔
انجینئرز پر طیاروں کو قواعد کیخلاف پرواز کیلئے کلیئرنس دینے کیلئے دباؤ ڈالا جاتا ہے، انتظامیہ پرزے کی تبدیلی کے بغیر سیفٹی پر سمجھوتہ کرنے کیلئے دباؤ ڈالتی ہے۔
ذرائع نے انکشاف کیا کہ گزشتہ دنوں کینیڈا کی پرواز قواعد کیخلاف کلیئر نہ کرنے پر ایک انجینئر کو زدکوب کیا گیا تھا۔
ایئرلائن انتظامیہ کے دباؤ پر مسافروں کی زندگی خطرے میں نہیں ڈال سکتے، ایئر کرافٹ انجینئرز ادارے کی نجکاری کے مخالف نہیں بلکہ پرزور حامی ہیں۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ مسافروں کی سلامتی کیلئے فلائٹ سیفی پر سمجھوتہ نہیں کریں گے، ایک سال سے طیاروں کے ضروری پرزہ جات کی شدید کمی سے آگاہ کررہے ہیں۔
مزید پڑھیں : ملک بھر میں پی آئی اے کا فلائٹ آپریشن رک گیا
واضح رہے کہ ایئر کرافٹ انجینئرز کے احتجاج کے باعث ملک بھر میں قومی ایئر لائن کا فلائٹ آپریشن رک گیا ہے، پی آئی اے انتظامیہ اور ایئر کرافٹ انجینئرز کے درمیان تنازع کے سبب پروازیں روانہ نہیں ہو رہیں۔
سوسائٹی آف ایئر کرافٹ انجینئرز سیپ کے عہدیداران کا کہنا ہے کہ ایئر کرافٹ انجینئرز نے طیاروں کی کلیرنس روک دی جس سے فلائٹ آپریشن متاثر ہوا، سی ای او کا رویے ٹھیک ہونے تک کام نہیں کرینگے۔



