اسلام آباد (12 اپریل 2026): پاکستان میں الیکٹرک بائیکس و گاڑیوں اور سولر کیلیے استعمال ہونے والی لیتھیم بیٹریوں کی مقامی سطح پر تیاری کے حوالے سے اہم پیشرفت سامنے آگئی۔
پاکستان میں لیتھیم بیٹریوں کی تیاری کا پہلا پلانٹ جلد کراچی میں کام شروع کر دے گا، پاکستان سولر ایسوسی ایشن (پی ایس اے) نے انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ (ای ڈی بی) کو اس حوالے سے یقین دہانی کروا دی۔
انگریزی روزنامہ کی حالیہ رپورٹ کے مطابق ایک اجلاس کے دوران ای ڈی بی کے چیف ایگزیکٹو حماد منصور نے بتایا کہ نئی پالیسی وزارت صنعت و پیداوار کو بھیج دی گئی ہے، لیھتیم بیٹریوں کے پرزہ جات کی درآمد پر ٹیکس کم کرنے کیلیے نیشنل ٹیرف بورڈ سے رابطہ کیا جائے گا، حتمی منظوری کے بعد وزارت خزانہ اسے بجٹ 2027-2026 میں پیش کرے گی۔
یہ بھی پڑھیں: ’ایک بار لگائیں، 100 سال چلائیں‘: توانائی کی دنیا میں انقلاب برپا کرنے والی بیٹری متعارف
حماد منصور کے مطابق اس پالیسی کا مقصد ملک کے اندر لیتھیم بیٹریاں تیار کرنا اور باہر سے بنی بنائی بیٹریوں کی درآمد کم کرنا ہے، توانائی کا مستقبل بیٹریوں پر منحصر ہے لہٰذا سولر سسٹم اور الیکٹرک گاڑیوں کیلیے مقامی سطح پر بیٹریاں بنانا ناگزیر ہو چکا ہے۔
واضح رہے کہ ای وی ٹیکنالوجیز نامی انجینئرنگ کمپنی نے مذکورہ پلانٹ کا منصوبہ پیش کیا ہے۔
کمپنی کی سی ای او ہما خٹک نے بتایا کہ لیتھیم بیٹریاں بنانے کے پلانٹ کا آرڈر دے دیا گیا ہے، امید ہے کہ اگلے 2 سے 3 ماہ میں پیداوار شروع ہو جائے گی۔
رپورٹ کے مطابق پلانٹ کراچی کے کورنگی انڈسٹریل ایریا میں لگایا جائے گا، شروع میں اس کی صلاحیت 4 میگا واٹ ہوگی جس سے ہر ماہ تقریباً 2 ہزار بیٹریاں تیار کی جائیں گی۔



