پاپا رازی (Paparazzi)کسی ایک شخص کو نہیں بلکہ ان آزاد پیشہ ور فوٹوگرافروں (فری لانسرز ) کو کہا جاتا ہے جو مشہور شخصیات کی نجی زندگی کی تصاویر ان کی مرضی کے بغیر خاموشی سے بنا لیتے ہیں۔
یہ اصطلاح دراصل ایک اطالوی فلم ساز فیڈریکو فیلینی کی 1960 میں بننے والی مشہور فلم ’لا ڈولچے ویٹا‘ کے ایک کردار ’پاپا رازو‘ سے نکلی ہے، فلم میں یہ کردار ایک ایسا رپورٹر فوٹوگرافر ہوتا ہے جو ہر وقت کسی نہ کسی مشہور شخصیت کا پیچھا کرتا رہتا ہے۔
ابتدا میں یہ محض ایک فلمی کردار تھا لیکن حقیقی دنیا میں پاپا رازی کا بادشاہ اٹلی نہیں بلکہ نیویارک میں پیدا ہوا، جس کا نام رون گالیلا تھا۔
رون گالیلا محض ایک عام فوٹوگرافر نہیں تھا بلکہ ایک جنونی شخص تھا، جو خود کو ’پاپا رازو آرٹسٹ‘ کہتا تھا، اس نے سیلیبریٹی فوٹوگرافی کو نئی بلندیوں کے بجائے متنازعہ بنا دیا۔
وہ کسی گوریلے جنگجو کی طرح کام کرتا تھا کبھی جھاڑیوں میں چھپ جاتا، کبھی ویٹر یا ڈرائیور کا روپ دھار لیتا یہاں تک کہ ہوٹل اسٹاف کو رشوت دے کر مشہور شخصیات کے بارے میں معلومات حاصل کرتا تھا، اس کا یہ ماننا تھا کہ سیلیبریٹیز کی کوئی نجی زندگی نہیں ہوتی وہ پبلک پراپرٹی ہوتے ہیں۔

فوٹو گرافر رون گالیلا کا سب سے بڑا ہدف امریکا کی سابق خاتونِ اوّل جیکولین کینیڈی تھیں، وہ ان کے ساتھ سائے کی طرح ہر جگہ موجود رہتا تھا، اس نے جیکولین کی سینکڑوں تصاویر کھینچیں، جن میں سب سے مشہور تصویر “ونڈ بلون جیکی” کہلاتی ہے۔
اس تصویر میں جیکولین نیویارک کی ایک سڑک پر چل رہی ہیں، ہوا سے ان کے بال بکھر رہے ہیں اور وہ بے خبری میں کیمرے کی طرف دیکھ کر مسکرا رہی ہیں، یہ تصویر آج بھی فوٹوگرافی کا شاہکار سمجھی جاتی ہے۔

تاہم حقیقت یہ تھی کہ جیکولین کینیڈی رون گالیلا سے شدید پریشان ہوچکی تھیں اور انہوں نے اس کے خلاف مقدمہ تک دائر کردیا اور ایک طویل قانونی جنگ کے بعد عدالت نے حکم دیا کہ رون گالیلا جیکولین اور ان کے بچوں سے 50 فٹ دور رہے گا۔
پاپا رازی رون گالیلا کا جنون صرف جیکولین تک محدود نہیں تھا بلکہ اس نے ہالی ووڈ کے تقریباً ہر بڑے ستارے کا تعاقب کیا۔
مشہور اداکار مارلن برانڈو بھی اس کی حرکتوں سے تنگ آچکے تھے، ایک روز برانڈو نے غصے میں آکر رون گالیلا کو ایسا زور دار گھونسا مارا کہ اس کا جبڑا اور پانچ دانت ٹوٹ گئے۔



