بچوں کی اچھی تربیت اور دیکھ بھال کے لیے والدین اپنی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں تاکہ وہ بڑے ہوکر معاشرے میں باعزت اور بہتر مقام حاصل کرسکیں۔
تاہم بعض اوقات وقت کی کمی اور روزگار کی مصروفیت والدین کی اس خواہش اور کوشش کو ناکام بنا دیتی ہے، کچھ ایسا ہی کراچی کی ایک خاتون کے ساتھ ہوا جو اپنے 12 سالہ بیٹے کی پرورش اورتربیت سے متعلق انتہائی فکرمند ہیں۔
اے آر وائی ڈیجیٹل کے پروگرام گڈ مارننگ پاکستان میں بحیثیت مہمان شرکت کرنے والی ایک خاتون نے بتایا کہ شوہر کے انتقال کے بعد مجھے گھر کی ذمہ داری اور اخراجات کو پورا کرنے کیلیے ملازمت کرنا پڑی۔
انہوں نے بتایا کہ میرا ایک ہی بیٹا ہے جس کی عمر 12سال ہے، میں اپنی ملازمت کے اوقات کی وجہ سے اس کی تعلیم و تربیت پر پوری توجہ نہیں دے پائی جس کا نقصان یہ ہوا کہ وہ چھوٹی سی عمر میں ہی غلط دوستوں کی صحبت میں بیٹھنے لگا۔
مجھ پر قیامت اس وقت ٹوٹی جب میری ایک محلہ دار خاتون نے بتایا کہ میں نے آپ کے بیٹے کو گلی میں سگریٹ پیتے ہوئے دیکھا تو ایک تھپڑ لگا کر اسے گھر بھیجا۔ خاتون نے روتے ہوئے بتایا کہ میں نے اسے بہت سمجھایا لیکن وہ باز نہیں آرہا اور نہ ہی اسکول جاتا ہے، میں خود پریشان ہوں کہ اب کیا کروں؟
اس موقع پر ماہر نفسیات عطیہ فرید نے کہا کہ اس عمر میں بچوں کا اس طرف جانا کوئی تعجب کی بات نہیں لیکن آپ بحیثیت ماں اس کو سمجھائیں اگر نہیں باز آتا تو اس پر سختی بھی کریں۔ ایسا نہیں ہے کہ وہ آپ کی بات نہیں مانے گا ، آج کل 12 سالہ کی عمر کے بچے کافی سمجھ دار ہوتے ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ میرا یہ ذاتی خیال ہے کہ سگریٹ پینے کی عادت بےشک بہت بری ہے لیکن اس کا تعلق کردار سے زیادہ صحت کی خرابی سے ہے، لہٰذا آپ اسے صحت کی اہمیت اور سگریٹ کے نقصانات سے آگاہ کریں امید ہے اس سے فائدہ ہوگا۔



