منکی پاکس ایک ایسا وائرس ہے، جس کے نتیجے میں پہلے بخار کی علامت ظاہر ہوتی ہے پھر مریض کے جسم پر آبلے ابھر آتے ہیں، جسم سوج جاتا ہے، پٹھوں اور سر میں درد ہوتا ہے۔
اے آر وائی نیوز کے پروگرام باخبر سویرا میں پبلک ہیلتھ انسپکٹر پروفیسر ڈاکٹر سعید خان نے منکی پاکس کی وجوہات، احتیاط اور علاج سے متعلق تفصیلی گفتگو کی۔
انہوں نے بتایا کہ منکی پاکس بیماری اسی نام کے وائرس کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے یہ جانوروں سے پھیلتی ہے اور انسانوں سے ایک دوسرے میں منتقل ہوتی ہے، اس کی ابتدائی علامات فلو جیسی ہوتی ہیں، تاہم یہ علامات 5 سے 21 دن بعد شروع ہوتی ہیں۔
دنیا بھر میں اب تک کم از کم 20 ممالک میں منکی پاکس کے 300 سے زیادہ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، جن میں سے زیادہ تر کیسز کی تعداد یورپ میں دیکھے گئے ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ یہ بیماری پاکستان میں بیرون ملک سے آئی ہے جیسے کہ شوہر سے حاملہ بیوی کو پھر ان کے ہونے والے بچے کو اور پیدائش کے بعد اگر بچہ انکیوبیٹر میں ہو تو اس کے جراثیم اس میں بھی پرورش پاتے ہیں۔ جس سے یہ مزید بچوں تک بھی اثر انداز ہوجاتی ہے۔
منکی پاکس کی ابتدائی علامات بشمول سر درد، پٹھوں میں درد، بخار اور تھکاوٹ، جو ابتدائی طور پر نزلہ سے ملتی جلتی ہے، بخار کے چند دنوں کے اندر، چہرے پر خاص طور پر لال رنگ کے دانے ظاہر ہوتے ہیں اور پھر دوسری جگہوں جیسے ہاتھوں کی ہتھیلیوں اور پیروں کے تلووں پر بھی ہوجاتے ہیں۔
واضح رہے کہ منکی پاکس 1958 میں اس وقت دریافت ہوا جب تحقیق کے لیے استعمال کیے جانے والے بندروں کے گروپوں میں ایک چیچک جیسی بیماری پھیلنے لگی۔
سائنس دانوں نے اس بیماری کی ابھی تک یقینی دہانی کی ہے، لیکن خیال کیا جاتا ہے کہ یہ افریقہ کے برساتی جنگلات میں چھوٹے چوہوں اور گلہریوں سے پھیلتا ہے۔



