مغربی سرحد پر افغان طالبان رجیم کی جانب سے جارحیت پر وزیراعظم شہباز شریف نے آج اعلیٰ سطح کا اجلاس طلب کرلیا۔
اے آر وائی نیوز کے مطابق وزیراعظم ہاؤس میں اعلیٰ سطح کے اجلاس میں چاروں وزرائے اعلیٰ شریک ہوں گے، وزیراعظم آزاد کشمیر اور وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان بھی شرکت کریں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں سیکیورٹی صورت حال پر افغانستان کی جارحیت پر غور کیا جائے گا۔
ملک کی موجودہ سیکیورٹی صورت حال کے تناظر میں اہم فیصلے ہوں گے، ملک بھر میں مقیم افغان مہاجرین کی فوری واپسی سے متعلق اہم فیصلے متوقع ہیں۔
یہ پڑھیں: ’پاکستان پر حملہ بھارت کی شہ پر ہوا، مجبوراً جوابی کارروائی کرنی پڑی‘
اس سے قبل وفاقی کابینہ سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا تھا کہ پاکستان نے محدود وسائل کے باوجود افغان پناہ گزینوں کی دہائیوں تک بھرپور میزبانی کی، آج بھی تقریباً 40 لاکھ افغان شہری پاکستان میں مقیم ہیں، ہم نے ہمیشہ بھائی چارے کا رشتہ قائم رکھا مگر بدقسمتی سے افغان دہشت گرد پاکستان کے پولیس اہلکاروں، فوجی جوانوں اور عام شہریوں کو شہید کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ چند روز قبل پاک افواج پر فتنہ الخوارج نے حملہ کیا جس کے بعد صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا، نائب وزیراعظم، وزیردفاع اور دیگر حکام نے بارہا کابل کا دورہ کیا اور افغان قیادت کو امن و ترقی کا پیغام دیا تاہم افغانستان نے امن کے بجائے جارحیت کا راستہ اپنایا۔
وزیراعظم نے کہا تھا کہ پاکستان پر حالیہ حملہ بھارت کی شہ پر کیا گیا، جب یہ حملہ ہوا تو افغان وزیر خارجہ دہلی میں موجود تھے، پاکستان نے دفاعِ وطن کے حق کا استعمال کرتے ہوئے بھرپور جوابی کارروائی کی، جس میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں افواج نے خوارج کو منہ توڑ جواب دیا۔



