spot_img

ذات صلة

جمع

لیاری کے شیدی : کب اور کہاں سے آئے؟ دلچسپ تاریخی داستان

کراچی : کیا آپ جانتے ہیں کہ پاکستان کے شہر کراچی میں ایک ’لٹل افریقہ‘ بھی موجود ہے، لیاری میں رہنے والے اکثر لوگوں کو شیدی یا سِدّی کہا جاتا ہے؟

جی ہاں !! لیاری کو ’لٹل افریقہ‘بھی کہا جاتا ہے جہاں آج بھی افریقی ثقافت کی جھلک نمایاں ہے، شیدی یا سِدّی برادری کی جڑیں جنوب مشرقی افریقہ کے بنٹو قبائل سے ملتی ہیں محمد بن قاسم کے دور سے لے کر صومالی مہاجرین کی آمد تک، تاریخ کے کئی ادوار اس برادری سے جڑے ہیں۔

پاکستان میں مختلف نسلوں اور تہذیبوں سے تعلق رکھنے والی برادریاں گزشتہ کئی صدیوں سے آباد ہیں۔ ان ہی میں ایک منفرد کمیونٹی شیدی یا سِدّی برادری بھی ہے، جسے بعض اوقات “افرو پاکستانی” بھی کہا جاتا ہے۔

انہیں سِدّی کیوں کہا جاتا ہے؟ اس حوالے سے تاریخ میں دو بڑی وجوہات بیان کی جاتی ہیں، جس میں ایک نظریے کے مطابق “سِدّی” کا لفظ “صاحبی” سے نکلا ہے، جسے شمالی افریقہ میں احترام کی علامت سمجھا جاتا تھا۔

دوسری وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ عرب جہازوں کے کپتانوں کو “سید” کہا جاتا تھا اور یہ لوگ ان ہی کے ساتھ یہاں پہنچے تھے۔

تقسیمِ ہند سے کئی دہائیوں قبل مختلف بحری جہازوں کے ذریعے افریقی نژاد افراد یہاں آئے اور یہیں آباد ہوگئے، ان میں کچھ کانگو، کچھ سوڈان اور دیگر افریقی علاقوں سے تعلق رکھتے تھے۔

بعد ازاں انہوں نے مقامی آبادی میں شادیاں کیں اور معاشرے میں گھل مل گئے۔ آج جو نسل آپ یہاں دیکھتے ہیں، وہ ان ہی لوگوں کی اولاد ہے۔

شیدی برادری کی تاریخ

شیدی برادری کی تاریخ کئی صدیوں پر محیط ہے، تاریخی روایات کے مطابق افریقی نژاد افراد پہلی مرتبہ 711ء میں محمد بن قاسم کی فتوحات کے دوران سندھ پہنچے، ان میں بعض سپاہی بھی شامل تھے جنہیں “زنجی” کہا جاتا تھا۔

بعد ازاں سترہویں سے انیسویں صدی کے درمیان بحرِ ہند کی تجارتی سرگرمیوں اور غلاموں کی تجارت کے نتیجے میں مشرقی افریقہ سے تعلق رکھنے والے افراد عمانی اور پرتگالی تاجروں کے ذریعے برصغیر پہنچے۔

تاریخی ریکارڈ سے معلوم ہوتا ہے کہ شیدی برادری کے افراد اپنی بہادری، محنت اور وفاداری کے باعث مختلف ریاستی اور عسکری مناصب تک بھی پہنچے، بعض شخصیات نے مقامی حکمرانوں کے درباروں میں اہم کردار ادا کیا۔

برطانوی دورِ حکومت میں بھی مشرقی افریقہ سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد کراچی اور دیگر علاقوں میں کاروبار اور ملازمت کے سلسلے میں آئے، جبکہ 1990 کی دہائی میں صومالیہ کے بحران کے بعد آنے والے بعض مہاجرین نے بھی پاکستان میں سکونت اختیار کی۔

Karachi's Sheedi community

افرو پاکستانی کیا ہے؟

لیاری آج بھی افرو پاکستانی شناخت کا اہم ترین مرکز تصور کیا جاتا ہے، یہاں موجود بعض گلیوں اور علاقوں کے نام افریقی شہروں کی یاد دلاتے ہیں، جن میں “مومباسا اسٹریٹ” بھی شامل ہے۔

مقامی آبادی کا بڑا حصہ بندرگاہی سرگرمیوں، کشتی رانی، مزدوری اور دیگر پیشوں سے وابستہ ہے، جبکہ خواتین گھریلو صنعتوں، کڑھائی اور پیکجنگ کے شعبوں میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

کھیلوں کے میدان میں بھی اس برادری نے نمایاں خدمات انجام دی ہیں، لیاری کو پاکستان میں فٹبال کا گڑھ سمجھا جاتا ہے اور یہاں سے متعدد نامور کھلاڑی بھی سامنے آئے، اس کے علاوہ نئی نسل کی خواتین باکسنگ سمیت مختلف کھیلوں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہی ہیں۔

ثقافتی طور پر “لیوا” رقص، مخصوص موسیقی، ڈھول کی تھاپ اور اجتماعی تقریبات آج بھی اس کمیونٹی کے افریقی ورثے کی نمائندگی کرتی ہیں۔

مشکلات اور معاشی چیلنجز کے باوجود شیدی برادری اپنی منفرد شناخت، ثقافت اور عزم کے ساتھ پاکستانی معاشرے کا متحرک حصہ بنی ہوئی ہے۔

spot_imgspot_img