لاہور : ڈیفنس میں گزشتہ ہفتے نجی تعلیمی ادارے کے سربراہ میاں عادل رشید کے بیٹے احمد جاوید کا قتل کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔
ڈی آئی جی انویسٹی گیشن ذیشان رضا کی سربراہی میں اسپیشل انویسٹی گیشن ٹیم تشکیل دے دی گئی جو مرکزی ملزمان عبداللہ اور ابوبکر کی گرفتاری کیلئے چھاپے مار رہی ہے۔
اس حوالے سے تفتیشی ذرائع کا کہنا ہے کہ احمد جاوید کو پرائیویٹ پارٹی میں ہونے والے جھگڑے کی بنا پر قتل کیا گیا، واردات کے وقت میاں اسد عرف مایا موقع پر ہی موجود تھا۔
ذرائع کے مطابق پولیس نے میاں وکی کے بھائی میاں اسد عرف مایا کو حراست میں لے لیا ہے، مقدمے میں نامزد ملزمان کے نام پی این آئی ایل میں ڈال دیے گئے ہیں۔
پولیس حکام کے مطابق مقتول احمد جاوید کی ایک لڑکی کے ساتھ دوستی تھی، جس پر ملزمان کو اعتراض تھا، احمد جاوید کو پیر اور اتوار کی درمیانی شب ڈی ایچ اے فیز 9 میں قتل کیا گیا تھا۔
تفتیشی ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ لاہور پارٹی میں شریک 2 لڑکیاں بھی زیرحراست ہیں،
شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ پارٹی کے میزبان نے صلح کروانے کے ارادے سے دونوں فریقین کو بلایا تھا، تاہم وہاں دوبارہ تنازعہ بھڑک اٹھا جو بالآخر فائرنگ پر منتج ہوا۔



