spot_img

ذات صلة

جمع

امریکی فوج نے ایران پر حملے شروع کردیے

واشنگٹن (10 جون 2026) : آبنائے ہرمز کے قریب...

پاپا رازی کی کیا حقیقت ہے؟ حیران کن کہانی سامنے آگئی

پاپا رازی (Paparazzi)کسی ایک شخص کو نہیں بلکہ ان...

بے رحم شخص کا اونٹنی پر تشدد، دونوں آنکھیں نکال لیں

تھرپارکر : اندرون سندھ کے شہر تھرپارکر میں اونٹنی...

جھانوی کپور نے ’پیڈی‘ کے لیے کتنا معاوضہ لیا؟

بالی ووڈ اداکارہ جھانوی کپور کی فلم ’پیڈی‘ میں...

قطر مذاکرات : پاکستان اور افغانستان جنگ بندی پر راضی ہوگئے

دوحہ : قطری وزارت خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان اور افغانستان جنگ بندی پر راضی ہوگئے ہیں۔ قطری وزارت خارجہ کے مطابق جنگ بندی کا فیصلہ دوحہ میں ہونے والے مذاکرات کے دوران ہوا۔

قطری وزارت خارجہ کے اعلامیہ کے مطابق دوحہ میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان مذاکرات 13گھنٹے تک جاری رہے، مذاکرات کے دوران فریقین نے دو طرفہ امن و استحکام کے لیے مستقل طریقہ کار وضع کرنے پر بھی اتفاق کیا۔

دونوں ممالک آئندہ چند دنوں میں فالو اپ اجلاس منعقد کریں گے، فالو اپ اجلاس میں جنگ بندی کے نفاذ اور اس کے پائیدار تسلسل کو یقینی بنایا جاسکے گا۔

قطری وزارت خارجہ کے اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ یہ اقدامات دونوں برادر اسلامی ممالک کی سلامتی اور استحکام کے فروغ میں مددگار ثابت ہونگے۔

اعلامیہ کے مطابق یہ اقدامات سلامتی اور استحکام کے فروغ میں مددگار ثابت ہونگے، یہ اہم پیشرفت سرحدی کشیدگی کے خاتمے اور خطے میں پائیدار امن کے قیام کی بنیاد رکھے گی۔

قطر اور ترکیہ کے تعاون پر شکر گزار ہیں، خواجہ آصف

اس حوالے سے وزیردفاع خواجہ آصف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے پیغام میں تصدیق کی کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان سیز فائر کا معاہدہ طے پا گیا ہے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ افغانستان سے دہشت گردی کا سلسلہ پاکستان میں فوری بند ہوگا، دونوں ہمسایہ ممالک اپنی سرزمین کا مکمل احترام کریں گے۔

انہوں نے بتایا کہ 25اکتوبر کو استنبول میں دوبارہ وفود کی ملاقات ہوگی، قطر اور ترکیہ کے اس تعاون پر پاکستان اور افغانستان ان کے شکر گزار ہیں۔

مزید پڑھیں : دوحا میں پاکستان اور افغانستان کے مذاکرات کا پہلا دور مکمل

یاد رہے کہ گزشتہ روز قطری انٹیلی جنس چیف عبداللہ بن محمد الخلیفہ کی میزبانی میں مذاکرات کا پہلا دور دوحہ میں ہوا تھا جس میں پاکستانی وفد کی قیادت وزیر دفاع خواجہ آصف نے کی، سیکیورٹی حکام نے بھی وزیر دفاع کی معاونت کی جبکہ افغان وفد کی سربراہی وزیر دفاع ملا محمد یعقوب کررہے تھے۔

spot_imgspot_img