spot_img

ذات صلة

جمع

مارکیٹیں کتنے بجے بند ہوں گی؟

حکومت نے ایندھن کی بچت پالیسی کے تحت مزید...

بنوں میں بارود سے بھری گاڑی پولیس اسٹیشن سے ٹکرا گئی

بنوں میں بارود سے بھری گاڑی ڈومیل پولیس اسٹیشن...

بیرسٹر گوہر کے نام پر ہیکرز نے 5 لاکھ روپے لوٹ لیے

چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کے نام پر...

’موٹر سائیکل سواروں کے لیے 100 روپے فی لیٹر سبسڈی دی جائے گی‘

وفاقی وزیر برائے خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا ہے...

فوجی فرٹیلائزر کنسورشیم میں شامل ہوچکی، پی آئی اے کے جہازوں کی تعداد 64 تک بڑھائیں گے، عارف حبیب

عارف حبیب نے کہا ہے کہ فوجی فرٹیلائزر کی ہمارے کنسورشیم میں شمولیت ہوچکی ہے، پی آئی اے کے جہازوں کی تعداد 64 تک بڑھائیں گے۔

اے آر وائی نیوز کے پروگرام میں میزبان وسیم بادامی سے گفتگو کرتے ہوئے چیف ایگزیکٹیو عارف حبیب گروپ نے کہا کہ پہلے فیز میں ہم پی آئی اے کے جہازوں کی تعداد 38 تک بڑھائیں گے، دوسرے فیز میں پی آئی اے کے جہازوں کی تعداد 64 تک بڑھائیں گے، فوجی فرٹیلائزر کی کنسورشیم میں شمولیت کی کاغذی کارروائی بھی مکمل ہوچکی ہے۔

عارف حبیب نے کہا کہ پی آئی اے کے باقی 25 فیصد شیئرز خریدنے میں دلچسپی ہے، حکومت نے 90 دن کا وقت دیا ہے 25 فیصد شیئرز خریدنے کا فیصلہ کرسکتے ہیں، ہماری مشاورت میں اتفاق کے قریب ہیں کہ 25 فیصد شیئرز بھی لےلیں

انھوں نے کہا کہ 25 فیصد شیئرز خریدے تو تمام 45 ارب روپے حکومت کو جائیں گے، پی آئی اے میں مجموعی طور پر 125 ارب روپے ایک سال کے اندر سرمایہ کاری ہوگی

مزید پڑھیں: عارف حبیب کنسورشیم کا پی آئی اے کے باقی 25 فیصد شیئرز بھی خریدنے کا فیصلہ

چیف ایگزیکٹیو عارف حبیب گروپ نے کہا کہ پی آئی اے کی بڈنگ سے پہلے تمام بڈرز تمام تفصیلات سے آگاہ تھے، بیچے والے اور خریدنے والے کی اپنی اپنی سوچ ہوتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ بیلنس شیٹ دیکھیں گے تو بک ویلیو صفر ہے اس کا مطلب جتنی قیمت اتنا ہی قرضہ ہے، پی آئی اے کیلئے سب سے بڑا مسئلہ یہ تھا کہ جو نقصان ہوتا تھا اس کو دور نہیں کیا جاتا تھا۔

عارف حبیب نے کہا کہ حکومت اس نقصان کو پورا کرنے کیلئے قرضہ لے لیتی تھی جو 800 ارب تک پہنچ گیا تھا، ہر سال پی آئی اے کا قرض بڑھتا جارہا تھا جس سے مشکلات بڑھ رہی تھیں

یہ بھی پڑھیں: روز ویلٹ ہوٹل کی نجکاری کا عمل کب شروع ہوگا؟ مشیر نجکاری کمیشن نے بتا دیا

ہرسال پی آئی اے کا قرض بڑھتا جارہا تھا جس سے مشکلات بڑھ رہی تھیں، حکومت نے کمپنی چلانے کیلئے پیسہ نہیں ڈالا بلکہ صرف گارنٹیز دیتی رہی۔

عارف حبیب نے مزید کہا کہ غیرمنافع بخش روٹ پر طیارے چلائیں گے تو کمپنی دوبارہ بیٹھ جائیگی، غیرمنافع بخش روٹ پر سروس دینی ہے تو اس کی ادائیگی حکومت کرے گی۔

نجکاری کمیشن بورڈ نے پی آئی اے کیلئے عارف حبیب کنسورشیم کی بولی کی منظوری کی سفارش کردی

spot_imgspot_img