اسلام آباد (3 جولائی 2026): وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے سوال کیا ہے کہ لاہور میں غیر ملکی خواتین کے مبینہ اغوا و جنسی زیادتی کے کیس سے نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار کا کیا تعلق ہے؟
اے آر وائی نیوز کے پروگرام ’اعتراض ہے‘ میں رانا ثنا اللہ نے لاہور میں دو غیر ملکی خواتین کے مبینہ اغوا و جنسی زیادتی سے متعلق کیس پر بات کی، جس میں اسحاق ڈار کے نواسے رضا ڈار و دیگر ملزمان کا نام سامنے آیا ہے۔
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ اسحاق ڈار کو اس معاملے میں بالکل گفتگو نہیں کرنی چاہیے، اور جو آدمی ان سے اس معاملے پر بات کرے گا اس سے زیادہ احمق بھی کوئی نہیں ہوگا، کسی رشتے دار کی بنیاد پر اسحاق ڈار ہو یا کوئی بھی ہو اس پر الزام نہیں لگایا جا سکتا، بلکہ جرم جس نے کیا ہے اگر وہ خدا نخواستہ پکڑا نہ جاتا تو پھر بھی ان کو مورد الزام نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔
یہ بھی پڑھیں: رضا ڈار پر شرمناک الزام کے بعد اسحاق ڈار استعفیٰ دیں، فیصل واوڈا
انہوں نے مزید کہا کہ غیر ملکی خواتین کی شکایت جیسے ہی پہنچی اسی وقت مقدمہ درج ہوا اور گرفتاریاں ہوئیں، پولیس نے متاثرین کو عدالت میں پیش کیا جہاں دفعہ 164 کا بیان بھی ہوگیا ہے، عدالت انصاف دے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ غیر ملکی خواتین کے کیس سے اسحاق ڈار کا کیا لینا دینا، یہ بات بالکل غلط ہے کہ حکومت اس کیس کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے، سینیٹر فیصل واوڈا کے پاس کوئی ثبوت ہے تو وہ سامنے لے آئیں، پنجاب حکومت اس بات کو یقینی بنائے گی کہ مظلوم کو انصاف ملے۔
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ اس کیس میں مظلوم کے ساتھ ابتدائی طور پر انصاف کا مرحلہ تو پورا ہوا ہے، کیس عدالت میں چلے گا فیصلہ میرٹ پر ہوگا، جرم ثابت ہوا تو انہیں سزا ہوگی۔



