spot_img

ذات صلة

جمع

مارکیٹیں کتنے بجے بند ہوں گی؟

حکومت نے ایندھن کی بچت پالیسی کے تحت مزید...

بنوں میں بارود سے بھری گاڑی پولیس اسٹیشن سے ٹکرا گئی

بنوں میں بارود سے بھری گاڑی ڈومیل پولیس اسٹیشن...

بیرسٹر گوہر کے نام پر ہیکرز نے 5 لاکھ روپے لوٹ لیے

چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کے نام پر...

’موٹر سائیکل سواروں کے لیے 100 روپے فی لیٹر سبسڈی دی جائے گی‘

وفاقی وزیر برائے خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا ہے...

غیر قانونی تعمیرات پر سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کا بڑا ایکشن

کراچی: غیر قانونی تعمیرات پر سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے ایکشن لیتے ہوئے ضلع جنوبی میں تعینات 60 سے زائد افسران کو شوکاز نوٹس جاری کر دیے۔

تفصیلات کے مطابق ایس بی سی اے کی ویجیلنس رپورٹ پر انکوائری کا آغاز کرتے ہوئے ڈپٹی ڈائریکٹرز، اسسٹنٹ ڈائریکٹرز، بلڈنگ انسپکٹرز کو نوٹس جاری کر دیے گئے۔

38 مقامات پر غیر قانونی تعمیرات کی نشاندہی پر ایکشن لیا گیا

ضلع جنوبی میں لیاری، صدر، کلفٹن، سول لائنز ،  گارڈن ویسٹ کوارٹرز، گلشنِ فیصل، آرام باغ کوارٹرز، ہنگورآباد، بہارکالونی اور نوآباد کے علاقوں میں غیر قانونی تعمیرات کرائی گئیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ افسران سے 7 دن میں وضاحت طلب کی گئی ہے اور جواب  نہ دینے پر معطلی یا برطرفی کا امکان ہے۔

ایس بی سی اے نےغیر قانونی تعمیر شدہ 38 عمارات کو  عوامی جانوں کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ قصوروار افسران کے خلاف بلا امتیاز کارروائی ہوگی۔

ایس بی سی اے حکام نے ضلع جنوبی میں غیر قانونی تعمیرات روکنے میں ناکامی پر 60 سے زائد افسران و اہلکاروں کے خلاف محکمانہ کارروائی شروع کی ہے۔

ملوث 12  ڈپٹی ڈائریکٹرز، 19 اسسٹنٹ ڈائریکٹرز، 29 بلڈنگ انسپکٹرز، انجینئرز اور آرکیٹیکٹس کو شوکاز نوٹس جاری کیے گئے ہیں یہ افسران 38 مقامات پر غیر قانونی تعمیرات کے دوران ضلع جنوبی میں تعینات تھے۔

مذکورہ افسران کی مبینہ طور پر نگرانی میں رہائشی، کمرشل اور مخلوط استعمال کی عمارتیں بنوائی گئیں، غیر قانونی تعمیرات جعلی نقشوں، گراؤنڈ پلس کثیر المنزلہ ، غیر قانونی دکانیں اور ایسی عمارتیں شامل ہیں جو بغیر کمپلیشن یا سیفٹی کلیئرنس کے بعد آباد کرائی گئیں۔

ان عمارتوں میں  فائر سیفٹی انتظامات، منظور شدہ اسٹرکچرل ڈیزائن، پارکنگ سہولیات اور ایمرجنسی رسائی موجود نہیں۔

spot_imgspot_img