spot_img

ذات صلة

جمع

مارکیٹیں کتنے بجے بند ہوں گی؟

حکومت نے ایندھن کی بچت پالیسی کے تحت مزید...

بنوں میں بارود سے بھری گاڑی پولیس اسٹیشن سے ٹکرا گئی

بنوں میں بارود سے بھری گاڑی ڈومیل پولیس اسٹیشن...

بیرسٹر گوہر کے نام پر ہیکرز نے 5 لاکھ روپے لوٹ لیے

چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کے نام پر...

’موٹر سائیکل سواروں کے لیے 100 روپے فی لیٹر سبسڈی دی جائے گی‘

وفاقی وزیر برائے خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا ہے...

شلپا شیٹی کے گھر پر چھاپہ، اداکارہ کی مشکلات بڑھنے لگیں

ممبئی (18 دسمبر 2025): معروف بالی وڈ اداکارہ شلپا شیٹی کے گھر پر انکم ٹیکس کی ٹیم نے چھاپہ مارا ہے جس سے ان کی مشکلات بڑھتی ہوئی نظر آ رہی ہیں۔

انڈین میڈیا کے مطابق انکم ٹیکس حکام نے 60 کروڑ روپے کے فراڈ کیس کے سلسلے میں شلپا شیٹی کی ممبئی میں واقع رہائش گاہ پر چھاپہ مارا۔

یہ بھی پڑھیں: شلپا شیٹی نے 60 کروڑ فراڈ کیس میں بیان ریکارڈ کروا دیا

ممبئی پولیس کے اکنامک آفنس ونگ نے ایک تاجر دیپک کوٹھاری کی شکایت پر شلپا شیٹی اور ان کے شوہر راج کندرا کے خلاف ایف آئی آر درج کر رکھی ہے جس میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ جوڑے نے سرمایہ کاری کے نام پر تاجر کے ساتھ فراڈ کیا ہے۔

انکم ٹیکس حکام کی جانب سے مارے گئے چھاپے سے متعلق تفصیلات اب تک سامنے نہیں آ سکیں۔

کیس کا پس منظر

شلپا شیٹی اور راج کندرا کمپنی ’بیسٹ ڈیل ٹی وی پرائیویٹ لمیٹڈ‘ کے ڈائریکٹرز تھے، جوڑے کے خلاف 14 اگست کو ممبئی میں مقدمہ درج کیا گیا۔ میاں بیوی پر الزام ہے کہ انہوں نے 2015 اور 2023 کے درمیان سرمایہ کاری کے ایک معاہدے میں تاجر دیپک کوٹھاری کے ساتھ تقریباً 60 کروڑ روپے کا فراڈ کیا۔

تاجر کے مطابق جوڑے نے مبینہ طور پر انہیں 60 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری پر آمادہ کیا لیکن اس رقم کو اپنے ذاتی مفادات کیلیے استعمال کیا۔

فراڈ کیس کی تحقیقات جاری ہیں اور حکام سے بات کرتے ہوئے راج کندرا نے دعویٰ کیا کہ 60 کروڑ روپے کا ایک حصہ اداکارہ بپاشا باسو اور نیہا دھوپیا کو فیس کے طور پر ادا کیا گیا تھا۔

کمپنی کے بارے میں راج کندرا کا کہنا تھا کہ 2016 کے بعد کمپنی کو بھاری نقصان کا سامنا کرنا پڑا، مالی بحران کی وجہ سے کمپنی ادھار لی گئی رقم واپس نہ کر سکی۔

دوسری جانب، شلپا شیٹی نے سوشل میڈیا کے ذریعے ایک بیان جاری کیا جس میں انہوں نے اپنے خلاف تمام دعووں کی سختی سے تردید کی۔

اداکارہ نے کہا کہ کیس کو ختم کرنے کیلیے ہائیکورٹ میں پہلے ہی درخواست دائر کی جا چکی ہے جو کہ فی الحال زیر سماعت ہے۔

spot_imgspot_img