گزشتہ سے پیوستہ :
لاہور کے بادامی باغ کی اس بیکری میں گندگی اور غلاظت تو تھی ہی ساتھ ہی کھانے پینے کی اشیاء سموسے اور دیگر میں استعمال ہونے والا مٹیریل بھی انتہائی ناقص اور بدبو دار تھا۔
سموسے میں استعمال ہونے والے آلوؤں کا یہ عالم تھا کہ اتنے بڑے ڈھیر میں ایک بھی آلو صاف ستھرا نہیں نکلا، کیڑے زدہ اور سڑے ہوئے درجہ سوئم کے آلوؤں اور گلی سڑی سبزیوں کو کاٹ چھانٹ کر سموسوں میں ڈالا جاتا ہے۔
ان اشیاء کی تیاری کس طرح کی جاتی ہے اور کس طرح اس میں حفظان صحت اصولوں کو بالائے طاق رکھ کر شہریوں کی زندگیوں سے کھلواڑ کیا جاتا ہے۔
ٹیم سرعام اور پی ایف اے کے عملے نے دیکھا کہ یہاں صفائی ستھرائی کی صورتحال انتہائی قابل اعتراض تھی اور ملازمین بدبودار ماحول میں کام کررہے تھے۔
یہاں کی دیواروں پر مکڑی کے جالے اور سامان پر بے تحاشا مکھیاں بیٹھی تھیں، سموسہ رول پٹی کیلیے میدہ پیروں کی مدد سے گوندھا جا رہا تھا، پٹیوں میں استعمال ہونے والی روٹی کی تیاری کیلیے جو گھی رکھا ہوا تھا اس میں کیڑے مکوڑے اور دیگر حشرات الارض گرے ہوئے تھے۔
اس کے علاوہ سموسوں اور پکوڑوں کی تیاری میں استعمال ہونے والا گھی اور دیگر مسالہ جات بھی گھٹیا کوالٹی کے تھے۔
مزید پڑھیں : مشہور بیکری میں ہر طرف چوہوں کی غلاظت، مکھیوں اور چھپکلیوں کی بھرمار
اے آر وائی نیوز کے پروگرام سرعام کی ٹیم اور پنجاب فوڈ اتھارٹی کے عملے نے بڑے پیمانے پر کارروائی کی اور موقع پر مٹیریل کے معیار کو چیک کرتے ہوئے کئی کلو آلو سبزیوں اور مسالوں کو موقع پر ہی تلف کروا دیا۔



