spot_img

ذات صلة

جمع

ایرانی ریال کی خریداری : سرمایہ کار اس بات کا لازمی خیال رکھیں

کراچی : امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی...

وزیراعظم شہباز شریف کی سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات

ریاض : وزیراعظم شہباز شریف اہم سرکاری دورے پر...

ایرانی کمپنیوں اور شخصیات پر نئی امریکی پابندیاں عائد

واشنگٹن (16 اپریل 2026): امریکی وزارت خزانہ نے ایرانی...

ایران کے ساتھ مذاکرات میں پاکستان واحد ثالث ہے، امریکا

واشنگٹن : ترجمان وائٹ ہاؤس کیرولین لیوٹ نے کہا...

ریلوے کا زوال کیسے شروع ہوا؟ ذمہ دار کون ہے؟ چشم کشا رپورٹ

پرانے لوگوں کی یادوں میں ریلوے صرف سفر کا ذریعہ ہی نہیں بلکہ جذبات، انتظار، ملاقاتوں اور خوابوں کی علامت تھا، ٹرین کی سیٹیاں، چائے والوں کی صدائیں، پلیٹ فارم کی رونق، سب کچھ ایک الگ ہی دنیا تھی پھر اس کا زوال شروع ہوگیا۔

یہ رپورٹ صرف ایک وفاقی ادارے کی زوال کی کہانی ہی نہیں بلکہ یہ ایک قوم کے خواب کے پٹری سے اترنے کی دکھ بھری داستان ہے۔

ریل گاڑی کسی زمانے میں ملکی ترقی، طاقت اور قومی رفتار کی علامت تھی مگر آج یہی ادارہ زوال، خسارے اور بدانتظامی کی تصویر بن چکا ہے، یہ صرف ایک ادارے کی کہانی نہیں، بلکہ قومی ترجیحات کے بکھرنے کی داستان ہے۔

پہلی ٹرین کب اور کہاں چلی؟ 

برصغیر میں ریلوے کا آغاز 1853 میں ہوا، جب برطانوی راج میں پہلی ٹرین چلائی گئی، موجودہ پاکستان کے علاقے میں پہلی ٹرین 13 مئی 1861 کو کراچی سے کوٹری کے درمیان چلی۔

انگریزوں کے محکمہ ریلوے قائم کرنے کے اصل مقاصد علاقے پر مکمل اور جلد از جلد فوجی کنٹرول حاصل کرنا تھا، کیونکہ 1857 کی جنگ آزادی کے بعد انگریزوں کو فوری طور پر فوجی نقل و حرکت کی ضرورت تھی۔

اس کے علاوہ معاشی استحصال پیدا کرنا تھا۔ کپاس، گندم، معدنیات اور خام مال بندرگاہوں تک جلد پہنچانا اور انتظامی گرفت مضبوط کرنا تھا، اس کے علاوہ ریلوے نے دور دراز علاقوں پر انگریزوں کی حکمرانی مزید آسان بنا دی۔

اس مقصد کے حصول کیلیے برطانوی انجینئروں نے بلند وبالا پہاڑ کاٹے، سرنگیں بنائیں، بڑے بڑے پل تعمیر کیے، ہزاروں میل کی پٹریاں بچھائیں اور یہی وہ انفرااسٹرکچر تھا جو 1947 کو پاکستان کو میں ورثے میں ملا۔

1947میں جب پاکستان وجود میں آیا تو ریلوے کا پہلا بڑا کردار مہاجرین کی نقل مکانی تھا، یہ ٹرینیں ہندوستان سے صرف مسافر نہیں لا رہی تھیں، بلکہ خواب، امیدیں، آنسو اور قربانیاں بھی ساتھ لا رہی تھیں، پاکستان ریلوے کی بنیاد ان ہی انسانی قربانیوں پر رکھی گئی۔

سال 1950 سے 1970 یہ پاکستان ریلوے کا سنہری دور تھا جس میں اس محکمے نے نمایاں کامیابیاں حاصل کیں اس دور میں ادارہ بھرپور منافع بخش تھا، حکومت سے امداد نہیں لیتا تھا بلکہ قومی خزانے میں حصہ دی کرتا تھا 1960 سے 65میں 37 کروڑ روپے ریکارڈ منافع حاصل کیا۔

اس وقت محکمہ ریلوے کے اپنے اسکول اسپتال اور ملازمین کیلیے رہائشی کالونیاں تھیں، بھاپ کے انجنوں کی جگہ ڈیزل انجن بعد ازاں الیکٹرکل انجنوں نے لے لی۔

ریلوے کا زوال

محکمہ ریلوے ترقی کی پٹری پر پوری رفتار کے ساتھ دوڑ رہا تھا کہ اچانک کہانی نے ایک خطرناک موڑ لے لیا۔ جب نہ صرف ریلوے بلکہ پوری قوم کو پہلا بڑا دھچکا لگا، سال ‏1971 میں مشرقی پاکستان الگ ہوگیا اور پاکستان ریلوے کا بہت بڑا اور منافع بخش حصہ ‘ایسٹرن بنگال ریلوے’ بھی اس کے ساتھ چلا گیا، یہی پاکستان ریلوے کے زوال کا پہلا سنگین موڑ تھا۔

ریلوے کی تنزلی میں بتدریج اضافہ ہوتا چلا گیا نئی حکومتوں نے اس پر توجہ دینے کے بجائے سڑکوں کو زیادہ ترجیح دی۔ جس کی وجہ سے نیشنل لاجسٹکس سیل (این ایل سی) نے مال برداری میں ریلوے کی جگہ لینا شروع کردی اور ٹرکنگ سیکٹر کو فروغ دیا گیا۔

ریلوے کے زوال کی سب سے بڑی اور تباہ کن وجہ اس محکمے میں سیاسی مداخلت اور کرپشن تھی، قابلیت کو نظر انداز کرکے سفارش پر سیاسی کارکنان بھرتی کروائے جانے لگے، جس کے سبب نااہل اور کرپٹ افسران آگئے۔

اس دوران ایسے روٹ شروع کروائے گئے جن کا کوئی فائدہ نہیں تھا، اسی دور میں ریلوے کی قیمتی زمینوں پر قبضے ہونا شروع ہوئے، انجنوں اور ڈبوں کے اسکریپ چوری ہونے کا آغاز ہوا اور مالی بدعنوانی کا ایسا آغاز ہوا کہ آج تک نہیں رک پایا۔

انفرااسٹرکچر کی تباہی

دنیا آگے بڑھتی رہی مگر پاکستان ریلوے مزید پستی میں جاتے ہوئے پرانی پٹریوں پر ہی چلتا رہا، وہی فرسودہ سگنل سسٹم، بوسیدہ انجن اور خراب سروس اس پر ستم یہ کہ ضرورت سے زیادہ ملازمین نے تنخواہوں کی صورت میں مالی بحران میں اضافہ کیا۔

اسی صورتحال کے پیش نظر سانگی(1990) گھوٹکی (1991) محراب پور، لانڈھی، لیاقت پور اور ڈہرکی ٹرین سانحات ہوئے ہر حادثے کے بعد کمیٹیاں بنیں تحقیقات ہوئیں مگر کوئی اصلاح نہ ہوسکی۔

دوسری جانب سعودی عرب میں جدید ترین نیٹ ورک بنا دیا گیا، جاپان کی ٹرینیں وقت کی پابندی اور سیفٹی کی مثال بن گئیں، یورپی ممالک ریل کے ذریعے ایک دوسرے کے ساتھ جڑ گئے، یہاں تک کہ ہمارا پڑوسی ملک بھارت بھی جس کو ہماری طرح کا ہی ریلوے نظام ملا تھا اس نے بھی کسی نہ کسی حد تک اپنی ریلوے کو ماڈرن بنا لیا لیکن آج ہم کہاں کھڑے ہیں۔

آج ریلوے کی حالت کیا ہے؟

ادارہ گزشتہ کئی دہائیوں سے خسارے میں ہے، گزشتہ دو سال میں ‏2023-24 میں ریلوے نے ریکارڈ 88 ارب روپے کا ریونیو حاصل کیا جبکہ رواں مالی سال میں بھی 11 مہینوں میں 83ارب روپے کما چکا ہے۔

لیکن اس کے اخراجات آمدنی سے کہیں زیادہ ہیں، جن میں قرضوں اور پنشن کی ادائیگی کے بعد تو کچھ بچتا ہی نہیں، زیادہ تر انجن پرانے ہیں، پٹریاں بری حالت میں ہیں اور سب سے بڑھ کر ریلوے پر عوام کا اعتماد بھی تقریباً ختم ہوچکا ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کی مجموعی مال برداری کے ٹریفک میں صرف 4 فیصد حصہ ریلوے کے پاس ہے باقی کی مال برداری این ایل سی اور ٹرکوں کے ذریعے کی جاتی ہے جو اس کا سب سے بڑا معاشی نقصان ہے۔

ایم ایل ون منصوبہ کیا ہے؟ امید یا خواب

کراچی سے پشاور جانے والی پاکستان ریلوے کی مین لائن کو ’ایم ایل ون‘ کہا جاتا ہے اور یہ پروجیکٹ اس لائن کو اپ گریڈ کرنے کا منصوبہ ہے۔

اس میں نئی پٹریاں بچھائی جائیں گی، سگنل سسٹم کو جدید بنایا جائے گا اور یوں ریل گاڑیوں کی اسپیڈ پچاس یا سو نہیں، 160 کلومیٹرز فی گھنٹہ تک پہنچ جائے گی، لیکن بدقسمتی سے یہ منصوبہ بھی گزشتہ دس سال سے حکام بالا کی توجہ کا طلبگار ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ سب سے پہلے ریلوے کو خودمختار کرکے اس میں سیاسی مداخلت کا خاتمہ کیا جائے، اس کی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ مال برداری پر توجہ دی جائے کیونکہ اِس وقت دنیا بھر میں ریلوے کی اصل کمائی مسافر ٹرینوں سے نہیں بلکہ مال گاڑیوں سے ہوتی ہے۔!

پاکستان ریلوے کا زوال صرف ایک محکمے کی ناکامی نہیں بلکہ یہ ہماری اجتماعی غفلت اور غلط ترجیحات کی کہانی ہے۔ اگر نیت اور قیادت سنجیدہ اور درست ہو تو پاکستان ریلوے کو دوبارہ ترقی کی جانب گامزن کرنے میں کوئی رکاوٹ درپیش نہیں ہوگی۔

لاہور ریلوے کا خوفناک واقعہ جس نے محکمے کو ہلا ڈالا

spot_imgspot_img