ایک کتّا شدید کرب کے عالم میں تھا اور اس کا مالک پاس بیٹھا آنسو بہا رہا تھا۔ فرطِ رنج و غم سے اس کی ہچکی بندھی ہوئی تھی۔ روتا جاتا اور کہتا جاتا کہ ہائے! کیا جتن کروں کہ میرے پیارے کتّے کی جان بچ جائے، کئی برس کا ساتھ ہے، اس جانور سے مجھے بڑی محبت ہے۔ غرض اسی طرح اونچی آواز سے روتا جاتا تھا۔
ایک دانا شخص ادھر سے گزر رہا تھا۔ کتّے کے مالک کو یوں بے حال دیکھا تو دریافت کیا کہ بھائی خیر تو ہے؟ کیوں اس طرح رو رہا ہے؟
کتّے کے مالک نے جواب دیا: کیا کہوں بھائی، اس کتّے پر برا وقت آیا ہے، بڑے اوصاف کا مالک ہے، ایسا جانور تو پھر مجھے نہ ملے گا۔ رات بھر میرے مکان کی نگہبانی کرتا ہے، کتا کیا اسے شیر کہو شیر، بڑی بڑی روشن آنکھوں والا، ہیبت ناک، اونچا قد، دوڑنے میں ہرن کو مات کرے، اسے دیکھ کر چور اچکوں کی روح فنا ہو جاتی ہے۔ شکار کے تعاقب میں نکلے ہوئے تیر کی طرح جاتا ہے۔ اس کے علاوہ کئی خوبیاں ہیں، بلا کا قانع، صابر، اور وفادار بھی۔ فقیر نے بے حد متاثر ہو کر پوچھا: ”تیرے کتّے کو تکلیف کیا ہے۔ کیا اس کو کوئی مہلک گھاؤ لگا ہے۔ مالک نے جواب دیا: ”بھوک سے اس کا دم لبوں پر ہے اور کوئی بیماری نہیں۔ کئی دن ہو گئے، اسے کھانے کو کچھ نہیں ملا۔ فقیر نے کہا : بھائی اب صبر کرو، اس کے سوا اور چارہ ہی کیا ہے۔ اتنے میں اس فقیر کی نظر رونے والے شخص کی پیٹھ پر پڑی جہاں کپڑے میں کوئی چیز بندھی ہوئی لٹک رہی تھی۔ اس نے پوچھا: “میاں! اس کپڑے میں کیا لپٹا ہوا ہے؟ اس آدمی نے جواب دیا: ” یہ کل کے لئے چند روٹیاں اور کھانے پینے کا دوسرا سامان ہے، یہ سن کر مردِ فقیر کو سخت تعجب ہوا۔
اس نے برہمی سے کہا کہ ظالم اگر روٹیاں موجود ہیں تو کیوں نہیں دیتا اپنے وفادار جانور کو؟ کتّے کے مالک نے عجیب جواب دیا، بات تو درست ہے مگر مجھے اس حد تک اس کی محبت نہیں ہے کہ اپنی روٹی بھی اسے کھلا دوں، روٹیاں بغیر پیسے کے نہیں ملتیں اور یہ آنسو جو اس کے غم میں گرا رہا ہوں یہ میرے پاس فالتو اور بیکار ہیں، میں اس کی حالت دیکھ کر آنسو ہی بہا سکتا ہوں۔ فقیر نے کہا “لعنت ہو تیری عقل اور محبت پر۔ تیری مثال تو اس مشک کی سی ہے۔ جس میں ہوا بھری ہوئی ہوتی ہے۔ خاک پڑے تیرے سر پر، تیرے نزدیک روٹی کا ایک ٹکڑا آنسو سے زیادہ قیمتی ہے۔ ارے نامراد! آنسو تو وہ خون ہے جسے غم اور صدمے نے پانی بنا دیا ہے۔ اور تو وہ بدبخت ہے جو خون کو خاک سے کم جانتا ہے اور کافی سمجھتا ہے کہ ایسا کرکے تو اپنے اس وفادار کا حق ادا کر دے گا۔
سبق: اگر ضرورت مند کی مدد کرنے کے قابل ہو تو اس سے صرف ہمدردی کے چند بول بولنا کافی نہیں بلکہ اس کی حاجت پوری کرنے کی کوشش اخلاقی فرض ہے۔
(حکایتِ رومی سے انتخاب)



