اسلام آباد : کروڑوں روپے کے قرض سے بچنے کے لیے شہری نے اپنے ہی اغوا کا فلمی انداز اپنایا لیکن پولیس نے پورے پلان کا بھانڈا پھوڑ دیا، جعلی مغوی نے ویڈیوز بنا کر اہلخانہ کو بھیجیں۔
اغوا کی اطلاع پر ابتدا میں اہل خانہ سمیت پولیس بھی حیران رہ گئی، تاہم جدید تکنیکی تحقیقات نے چند ہی دنوں میں اس منصوبے کو بےنقاب کردیا۔
اے آر وائی نیوز کے پروگرام باخبر سویرا میں ڈی آئی جی اسلام آباد محمد جواد طارق نے پولیس کی جانب سے کی جانے والی کامیاب کارروائی سے متعلق تفصیل سے بتایا۔
انہوں نے کہا کہ نورالدین نامی شہری نے مبینہ طور پر 22 کروڑ روپے کے قرض سے بچنے کے لیے اپنے اغوا کی جھوٹی کہانی تیار کی۔ منصوبے کے تحت اس نے مسلح افراد کے ساتھ ایک ویڈیو بنائی، جس میں اسے تشدد کا نشانہ بناتے اور تاوان کا مطالبہ کرتے دکھایا گیا۔
بعد ازاں یہ ویڈیو اس کے اہل خانہ کو بھیجی گئی، جس کے بعد ملزم کے بھائی نے تھانہ آبپارہ میں اغوا کا مقدمہ درج کرا دیا۔
ڈی آئی جی اسلام آباد جواد طارق کے مطابق یکم مئی کو پولیس کو اطلاع ملی کہ نورالدین کی گاڑی اسلام آباد کے ایک سیکٹر میں لاوارث حالت میں کھڑی ہے، گاڑی کھلی ہوئی تھی اور اس میں چابی بھی موجود تھی جبکہ نورالدین کا موبائل فون بند جا رہا تھا۔
اطلاع ملتے ہی پولیس نے اغوا کی ایف آئی آر درج کر کے سیف سٹی کیمروں اور دیگر تکنیکی ذرائع سے تحقیقات شروع کردیں۔
ابتدائی طور پر پولیس کو تحقیقات میں ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا جیسے کہ کسی نے نورالدین کو زبردستی گاڑی میں بٹھایا یا اغوا کیا ہو، جس سے کیس شروع ہی سے مشکوک محسوس ہونے لگا۔
چند روز بعد اہل خانہ کو ایک اور ویڈیو موصول ہوئی جس میں مسلح افراد نورالدین کو تشدد کا نشانہ بناتے اور تاوان کا مطالبہ کرتے دکھائی دیے، جس پر تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع اور مختلف زاویوں سے کیا گیا۔
تحقیقات کے دوران پولیس کو معلوم ہوا کہ مبینہ مغوی دراصل کراچی میں ہی موجود تھا اور وہیں سے ویڈیوز بنا کر اہل خانہ کو بھیج رہا تھا۔
تحقیقات میں مزید انکشاف ہوا کہ ملزم اپنے دوستوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں تھا اور اس نے مختلف افراد کو رقم دے کر ویڈیو میں اغوا کاروں کا کردار ادا کروایا تھا۔
بعد ازاں پولیس نے خود ساختہ مغوی سمیت 4 ملزمان کو گرفتار کر لیا، ملزمان کو کراچی سے واپسی پر رحیم یار خان کے قریب گرفتار کیا گیا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ملزمان کے خلاف جھوٹی ایف آئی آر، جعل سازی اور فراڈ سمیت مختلف دفعات کے تحت کارروائی کی جارہی ہے۔



