spot_img

ذات صلة

جمع

امریکی فوج نے ایران پر حملے شروع کردیے

واشنگٹن (10 جون 2026) : آبنائے ہرمز کے قریب...

پاپا رازی کی کیا حقیقت ہے؟ حیران کن کہانی سامنے آگئی

پاپا رازی (Paparazzi)کسی ایک شخص کو نہیں بلکہ ان...

بے رحم شخص کا اونٹنی پر تشدد، دونوں آنکھیں نکال لیں

تھرپارکر : اندرون سندھ کے شہر تھرپارکر میں اونٹنی...

جھانوی کپور نے ’پیڈی‘ کے لیے کتنا معاوضہ لیا؟

بالی ووڈ اداکارہ جھانوی کپور کی فلم ’پیڈی‘ میں...

حکومت کی ٹیکس پالیسیاں، دیہی سطح پر دودھ جمع کرنے کے مراکز بند ہو رہے ہیں

اسلام آباد (04 مئی 2026): اسلام آباد میں منعقدہ ڈیری سیکٹر سے متعلق پری بجٹ سیمینار میں ٹیکس پالیسیوں کے اثرات پر تفصیلی بحث کی گئی، جہاں وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ رانا تنویر حسین نے خطاب کرتے ہوئے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں اہم پالیسی تبدیلیوں کا عندیہ دیا۔

وزیر نے کہا کہ حکومت ڈبے کے دودھ پر سیلز ٹیکس میں کمی کے لیے سنجیدہ کوششیں کر رہی ہے، کیوں کہ موجودہ ٹیکس بوجھ نے نہ صرف ڈیری مصنوعات کی لاگت میں اضافہ کیا ہے بلکہ اس شعبے کی مجموعی ترقی کو بھی متاثر کیا ہے۔

رانا تنویر کے مطابق حالیہ ٹیکس پالیسیوں کے باعث رسمی ڈیری سیکٹر سکڑ رہا ہے، جس کے نتیجے میں دیہی علاقوں میں دودھ جمع کرنے کے مراکز بند ہو رہے ہیں۔

انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کا ڈیری شعبہ ملکی غذائی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ ساتھ برآمدات کے وسیع مواقع بھی رکھتا ہے، تاہم زیادہ ٹیکسز اس صلاحیت کو محدود کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ڈبے کے دودھ پر سیلز ٹیکس میں نرمی کی جائے تو نہ صرف دودھ کی پیداوار میں اضافہ ہوگا بلکہ حکومتی محصولات بھی طویل مدت میں بہتر ہو سکتے ہیں۔

سیمینار میں اس امر کو بھی اجاگر کیا گیا کہ مویشی بانی کا شعبہ پاکستان کی زرعی معیشت کا تقریباً 60 فی صد حصہ ہے، اس لیے اس پر ٹیکس پالیسیوں کا براہ راست اثر قومی معیشت پر پڑتا ہے۔

ماہرین نے تجویز دی کہ آئندہ بجٹ میں ایسی ٹیکس اصلاحات متعارف کرائی جائیں جو ڈیری ویلیو چین کو مضبوط کریں، غیر رسمی معیشت کو دستاویزی بنائیں، اور دیہی معیشت کو سہارا دیں۔

spot_imgspot_img