کراچی : مین ہول میں گرنے والے 3 سالہ بچے ابراہیم کی لاش ڈھونڈنے والے 14 سالہ لڑکے نے وہ کام کر دکھایا جو کراچی کی شہری حکومت بھی نہ کرسکی۔
متوفی ابراہیم کی لاش 14 گھنٹے بعد جائے حادثہ سے ایک کلو میٹر دور نالے سے برآمد کی گئی جسے پرچون کی دکان پر کام کرنے والے تنویر نامی ایک لڑکے نے نالے سے باہر نکالا۔
اے آر وائی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے 14 سالہ لڑکے تنویر نے ساری صورتحال سے آگاہ کیا اس نے بتایا کہ یہاں علاقے مین رش لگا ہوا تھا تو پتہ چلا کہ کوئی بچہ گٹر میں گر گیا ہے اور مل نہیں رہا۔
اس نے بتایا کہ یہاں نالہ تین اطراف سے بہتا ہے مجھے خیال آیا کہ جہاں پانی کا بہاؤ زیادہ ہے وہاں دیکھتا ہوں شاید نظر آجائے، جب میں نے اس گٹر مین جھانک کر دیکھا تو مجھے بچے کا پاؤں نظر آگیا، جس کے بعد گٹر کے اندر اتر کر بہت مشکل سے اسے باہر نکالا ۔
تنویر نے بتایا کہ جب میں اسے نکال کر لے جا رہا تھا تو راستے میں پولیس والوں نے روکا اور کہا کہ اسے ہمیں دے دو تو میں نے کہا نہیں اس کے والدین کو دوں گا۔ بعد میں پھر اس بچے کے والدین اور میڈیا والے بھی پہنچ گئے۔
بعد ازاں تین سالہ بچے ابراہیم کی لاش ڈھونڈنے والے لڑکے تنویر اور اس کے والد کو ایس ایس پی آفس مدعو کیا گیا۔ جہاں ایس ایس پی ایسٹ ڈاکٹر فرخ نے اس کے کارنامے پر اسے نقد انعام اور گلدستہ پیش کیا۔ ایس ایس پی ایسٹ نے بچے کے والد کو بھی ہار پہنایا۔
کراچی میں ابراہیم کی لاش ڈھونڈنے والے بچے کو ایس ایس پی نے نقد انعام دے دیا



