پاکستان میں بدقسمتی سے خواتین کو بازاروں، دفاتر اور دیگر عوامی مقامات پر مختلف طریقوں سے ہراساں کیے جانے کے واقعات عام ہوچکے ہیں۔
خواتین کو آوازیں کسنے، گھریلو تشدد کرنے ان کا راستہ روکنے سمیت متعدد طریقوں سے ہراساں کیا جاتا ہے جو ان کیلیے شدید ذہنی کوفت کا سبب بنتا ہے۔
پاکستان کا آئین ایسی خواتین کو کس طرح تحفظ اور سپورٹ فراہم کرتا ہے؟ اس حوالے سے اے آر وائی نیوز کے پروگرام باخبر سویرا میں معروف سماجی کارکن فرزانہ باری نے اہم گفتگو کی۔
انہوں نے بتایا کہ سب سے پہلے خواتین کو اپنے آئینی حقوق کا پورا علم ہونا چاہیے، دوسری جانب ایک وجہ یہ بھی ہے کہ خواتین کو انصاف کے حصول میں رکاوٹوں کا سامنا ہے اسی لیے بہت سے کیس رپورٹ ہی نہیں کیے جاتے۔
اسی حوالے سے ایک کیس کا ذکر کرتے وئے انہوں نے بتایا کہ دو سال قبل ایک لیڈی ڈاکٹر کے ساتھ جنسی ذیادتی کا واقعہ رونما ہوا لیکن دو سال کا طویل عرصہ گزرنے کے بعد بھی ملزم کیخلاف کوئی مؤثر کارروائی تک نہ کی گئی۔
ان حالات سے دلبرداشتہ لیڈی ڈاکٹر اس قدر ذہنی اذیت کا شکار ہے کہ وہ خود کشی کا ارادہ ظاہر کررہی ہے کیونکہ جس شخص پر الزام ہے وہ اتنا بااثر ہے کہ اس نے میڈیکل رپورٹ بھی تبدیل کروادی پولیس بھی مبینہ طور پر اس کے ساتھ ملی ہوئی ہے۔



