spot_img

ذات صلة

جمع

ستارہ امتیاز کا اعزاز پانا ناقابل یقین ہے، حدیقہ کیانی

معروف گلوکارہ حدیقہ کیانی کو فن موسیقی کے خدمات...

بیرون ملک براہ راست ملازمت کو محفوظ کیسے بنائیں؟

بیرون ملک براہ راست ملازمت کو محفوظ کیسے بنائیں...

ایک اور ملک نے عید سے قبل تنخواہیں دینے کا اعلان کر دیا

مراکش میں عید الاضحیٰ سے قبل سرکاری شعبے کی...

جامعہ کراچی نے انجمن اساتذہ کے الزامات کو مسترد کردیا

جامعہ کراچی کی انتظامیہ نے  انجمن اساتذہ کی جانب...

جامعہ کراچی نے انجمن اساتذہ کے الزامات کو مسترد کردیا

جامعہ کراچی کی انتظامیہ نے  انجمن اساتذہ کی جانب سے منعقدہ پریس کانفرنس میں عائد کیے گئے تمام الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ الزامات لگانے والوں کے پاس اپنے دعوؤں کے حق میں کوئی ٹھوس شواہد موجود نہیں ہیں۔ انتظامیہ کے مطابق پیش کیے جانے والے الزامات حقائق کے منافی اور بے بنیاد ہیں۔

انتظامیہ نے واضح کیا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے ہاؤس سیلنگ الاؤنس میں کیا جانے والا اضافہ غیر معمولی نوعیت کا ہے، تاہم جب تک حکومت سندھ اس پالیسی کو اختیار نہیں کرتی، صوبائی ملازمین کو یہ اضافہ فراہم نہیں کیا جاسکتا۔ انتظامیہ کے مطابق اس اضافے کے باعث جامعہ کو سالانہ تقریباً 510 ملین روپے اضافی درکار ہوں گے، جو جامعہ کراچی اپنے محدود وسائل سے برداشت نہیں کرسکتی۔ اس سلسلے میں حکومت سندھ کو تمام تفصیلات ارسال کرتے ہوئے خصوصی گرانٹ یا بیل آؤٹ پیکیج کی درخواست کی جاچکی ہے۔

انتظامیہ نے کہا کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی کے اثرات نہ صرف ملازمین اور عام شہریوں بلکہ تعلیمی اداروں پر بھی مرتب ہورہے ہیں۔ جامعہ کراچی کے بجلی کے اخراجات میں تین گنا اضافہ ہوچکا ہے، جبکہ دیگر یوٹیلیٹی بلز اور طبی اخراجات میں بھی نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہےجبکہ میڈیکل اخراجات میں سو فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

مزید بتایا گیا کہ وفاقی ہائر ایجوکیشن کمیشن کی جانب سے تنخواہوں کی مد میں2017-18سے اب تک صرف 1.8 بلین روپے فراہم کیے جارہے ہیں، جبکہ اس دوران تنخواہوں میں مجموعی طور پر 170 فیصد اضافہ ہوچکا ہے۔ انتظامیہ کے مطابق  حالیہ پریس کانفرنس میں بجٹ سے متعلق غلط اعداد و شمار پیش کیے گئے ہیں، حالانکہ جامعہ کا بجٹ پلاننگ اینڈ فنانس کمیٹی، سنڈیکیٹ اور سینیٹ سے منظوری کے بعد وزیراعلیٰ سندھ کی منظوری کے لیے بھی پیش کیا جاتا ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ اعتراضات اٹھانے والے افراد خود بھی ان فورمز کے رکن ہیں۔

پریس کانفرنس میں جن پروگرامز، جن میں ڈیجیٹل مارکیٹنگ، اسپورٹس بزنس مینجمنٹ، پولٹری سائنس اور فزیکل تھراپی کا ذکر کیا گیا، انتظامیہ نے وضاحت کی کہ یہ الگ شعبہ جات نہیں بلکہ مختلف تعلیمی پروگرامز ہیں، جبکہ بجٹ میں فیسوں کی تفصیلات شعبہ جات کی بنیاد پر ظاہر کی جاتی ہیں۔

انتظامیہ نے کہا کہ بجٹ ایک تکنیکی معاملہ ہے جسے متعلقہ شعبے کے ماہرین ہی بہتر انداز میں سمجھ سکتے ہیں۔ ڈیفیسٹ بجٹ کا مطلب ہرگز کرپشن نہیں ہوتا بلکہ یہ موجودہ وسائل اور متوقع اخراجات کی بنیاد پر تیار کیا جاتا ہے۔

انتظامیہ نے اس تاثر کو بھی سختی سے مسترد کیا کہ فیسوں کی وصولی درست انداز میں ظاہر نہیں کی جارہی۔ انتظامیہ کے مطابق جب ادارے کو ضروریات اور اخراجات کے مطابق فنڈنگ فراہم نہ کی جائے تو بجٹ خسارے کا شکار ہوجاتا ہے اور متعدد اخراجات کو مؤخر کرنا پڑتا ہے۔ انتظامیہ نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ حکومت پاکستان بھی اکثر خسارے کا بجٹ پیش کرتی ہے، جس کا مطلب ہرگز بدعنوانی نہیں ہوتا۔ جامعہ کراچی مالی استحکام کے لیے مسلسل اقدامات کررہی ہے اور دیگر جامعات کے برعکس اب تک کسی قسم کا قرض حاصل نہیں کیا گیا۔ جامعہ اپنے وسائل سے تقریباً پچاس فیصد آمدن خود پیدا کررہی ہے۔

انتظامیہ کے مطابق گزشتہ چار برسوں سے جامعہ کراچی کے مالی معاملات کا مسلسل ایکسٹرنل آڈٹ حکومت سندھ، خصوصاً اے جی سندھ کی ٹیم کے ذریعے کیا جارہا ہے، اور اب تک کسی قسم کی مالی بے ضابطگی یا بدعنوانی سامنے نہیں آئی۔ مزید برآں مالی شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے مختلف اصلاحات اور تھرڈ پارٹی آڈٹ بھی کرایا گیا، جو اس امر کا ثبوت ہے کہ جامعہ کراچی مالی شفافیت پر مکمل یقین رکھتی ہے۔

لیو انکیشمنٹ کے حوالے سے انتظامیہ نے وضاحت کی کہ اس معاملے پر وفاقی و صوبائی ہائر ایجوکیشن کمیشن اور آڈٹ حکام کے اعتراضات موجود ہیں، جن کے مطابق لیو انکیشمنٹ صرف ریٹائرمنٹ کے وقت ایک مرتبہ دی جاسکتی ہے۔ انتظامیہ کا کہنا تھا کہ جامعہ کراچی مالی معاملات کو حکومتی قوانین اور ضوابط کے مطابق چلانے پر یقین رکھتی ہے، اور تمام فیصلے متعلقہ قانونی و آئینی فورمز، جن میں سینیٹ، سنڈیکیٹ اور اکیڈمک کونسل شامل ہیں، کی منظوری سے کیے جاتے ہیں۔

انتظامیہ نے انجمن اساتذہ کے صدر کی جانب سے نیپوٹزم اور فیورٹزم کے الزامات کو بھی بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ جامعہ میں تمام تقرریاں مکمل طور پر میرٹ کی بنیاد پر کی جاتی ہیں۔ اس کی واضح مثال 150 سے زائد ایسوسی ایٹ پروفیسرزاورپروفیسرز کی تقرریاں ہیں، جن پر کسی قسم کا سوالیہ نشان موجود نہیں۔ انتظامیہ کے مطابق اداروں کی مضبوطی کے لیے میرٹ پر مبنی فیصلے ناگزیر ہوتے ہیں۔

انتظامیہ نے اساتذہ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ان کی بنیادی ذمہ داری مستقبل کے معماروں کی تربیت ہے، نہ کہ امتحانات کا بائیکاٹ یا امتحانات لینے والے اساتذہ پر دباؤ ڈالنا۔ بطور استاد ہمیں طلبہ کے روشن مستقبل کو مدنظر رکھتے ہوئے مثبت کردار ادا کرنا چاہیے۔

مزید بتایا گیا کہ جامعہ کراچی کی موجودہ انتظامیہ نے پہلی مرتبہ پینشن اور انڈاؤمنٹ فنڈ کے قیام کو یقینی بنایا، جبکہ مستحق اور ضرورت مند طلبہ کے لیے مختلف اسکالرشپس اور اسٹوڈنٹس ایڈمیشن فنڈز بھی قائم کیے گئے تاکہ کوئی بھی طالبعلم مالی مشکلات کے باعث تعلیم سے محروم نہ رہے۔

انفرااسٹرکچر کی بہتری کے حوالے سے انتظامیہ نے بتایا کہ اس ضمن میں پی سی ون تیارکرکے حکومتی اداروں کو ارسال کرتی رہتی ہے۔ انتظامیہ نے حال ہی میں مکمل ہونے والے بڑے منصوبوں کے حوالے سے بھی بتایا جن میں 200 بستروں پر مشتمل جدید سہولیات سے آراستہ گرلز ہاسٹل، 60 بستروں پر مشتمل ایم فل و پی ایچ ڈی ہاسٹل، فیکلٹی آف سائنس وآرٹس کی نوتعمیرجدید تقاضوں سے ہم آہنگ اکیڈمک بلاکس،سینٹر فارڈیجیٹل فارنسک سائنس اینڈٹیکنالوجی کی عمارت اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت تعمیر ہونے والا اسکول آف لا شامل ہیں۔

spot_imgspot_img