انگلینڈ کے کپتان بین اسٹوکس کو نیوزی لینڈ کے خلاف دوسرے ٹیسٹ سے ڈراپ کرنے پر سابق کپتان ناصر حسین اور مائیکل ایتھرٹن کا ردعمل آگیا۔
انگلینڈ کرکٹ بورڈ نے نائٹ کلب واقعے کے بعد نیوزی لینڈ کے خلاف دوسرے ٹیسٹ کے لیے بین اسٹوکس کو ڈراپ کرکے جو روٹ کو کپتان مقرر کیا ہے۔
نیوزی لینڈ کے خلاف بدھ سے شروع ہونے والے سیریز کے دوسرے ٹیسٹ میچ کے لیے گس ایٹکنسن کو بھی اسکواڈ سے ڈراپ کردیا گیا ہے۔ ای سی بی کے مطابق جوفرا آرچر اور جارڈن کاکس کو دوسرے میچ کے لیے اسکواڈ میں شامل کیا گیا ہے۔
تاہم اب سابق کپتان ناصر حسین کا ردعمل سامنے آیا ہے، انہوں نے کہا کہ بین اسٹوکس نے انگلینڈ ٹیم کے لیے بہت کچھ کیا ہے، انگلینڈ کے بہترین لمحات میں وہ ٹیم کا حصہ تھے، ون ڈے ورلڈ کپ اور ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کی فتوحات کا حصہ تھے، وہ انگلینڈ ٹیم کے واریئر ہیں لیکن اس مرتبہ ان سے ایک بڑی غلطی ہوئی ہے۔
یہ پڑھیں: نائٹ کلب واقعہ: سابق کپتان بین اسٹوکس کے دفاع میں آگئے
ناصر حسین نے کہا کہ میرا نہیں خیال کہ یہ ایک ایسا جرم ہے کہ ان کو فارغ کر دیا جائے، بین اسٹوکس کے لیے یہ ایک مشکل وقت ہے، عظیم کرکٹرز کے لیے یہ نہیں ہونا چاہیے کہ وہ جذبات میں آکر ریٹائرمنٹ کا فیصلہ کر لیں، مجھے افسوس ہوگا اگر ہم آخری مرتبہ بین اسٹوکس کو ایکشن میں دیکھ چکے ہیں۔
سابق کپتان مائیکل ایتھرٹن نے کہا ہے کہ یہ اس لیے اسٹوری بنی کیوں کہ ایشیز کے بعد انگلینڈ ٹیم کا ایک بیانیہ بن چکا ہے، فتح کے بعد رات گئے تک باہر رہنا فارغ کرنے یا استعفیٰ لینے والا جرم نہیں، وہ 4 برس سے انگلینڈ ٹیم کے کپتان ہیں، ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ وہ اس وقت کیا سوچ رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بین اسٹوکس نے کوئی فیصلہ کرنا ہے لیکن اس کا ہمیں نہیں پتہ کہ وہ کیا کریں گے، مستقبل میں جب کوئی پوچھے گا کہ بین اسٹوکس کیوں ریٹائر ہوئے تو کیا کہا جائے گا؟



