کوئٹہ : وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے صوبے میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعے سے متعلق کہا ہے کہ جو بندوق کے زور پر ملک توڑنا چاہتے ہیں ان سے بےرحم طریقے سے نمٹنا چاہیے۔
اے آر وائی نیوز کے پروگرام خبر میں محمد مالک سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صوبے میں کالعدم بی ایل اے کے دہشت گرد بندوق لے کر لڑرہے ہیں۔
سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ امریکا 30سال بعد افغانستان سے واپس گیا اور جو اسلحہ وہاں چھوڑ گیا، وہ اسلحہ بھارتی ایجنسی را کے ہاتھ لگا تو اس نے سب کو بیچ دیا۔
صوبے میں تعمیر و ترقی سے متعلق ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ایسا تو نہیں ہوسکتا کہ صوبے میں راتوں رات تبدیلی آجائے، اب ہم نئے ڈویژنز اور ڈسٹرکٹ بنانے جارہے ہیں۔
وزیراعلیٰ بلوچستان نے بتایا کہ صوبے میں ایسے اضلاع بھی ہیں جن کا رقبہ کے پی کے سے بڑا ہے، ہم ایسے اضلاع کو چھوٹا کرنے جارہے ہیں تاکہ ریاست کی رٹ موجود رہے۔
انہوں نے بتایا کہ پہلے 250ارب روپے میں سے بہت بڑی رقم کرپشن کی نذر ہوجاتی تھی، پچھلے سال ہم نے 250ارب روپے میں سے 14ارب مس مینجمنٹ سے بچائے ہیں۔
ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماضی میں اسمبلی میں 1300ملازمین بھرتی کیے گئے اسے بیڈ گورننس کہتے ہیں، اب ہم اپنے گھر سے شروع کرکے پورے بلوچستان میں بہتر گورننس لارہے ہیں۔
وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کا مزید کہنا تھا کہ ایسے خاندان بھی موجود ہیں جو اپنے آباؤ اجداد کی زمینوں اور جائیدادوں کو چھوڑنے کیلئے کسی صورت تیار نہیں ہیں۔



