لندن : برطانوی حکومت نے کہا ہے کہ وہ ممالک جو اپنے ایسے افراد کی واپسی سے انکار یا تاخیر کریں گے جو برطانیہ میں غیر قانونی طور پر مقیم ہیں، ان ممالک کیلیے ویزوں تعداد کم کی جاسکتی ہے۔
نومنتخب برطانوی وزیر داخلہ شبانہ محمود نے پاکستان سمیت متعدد ممالک کو ویزا پابندیوں سے متعلق خبردار کردیا۔ انہوں نے اپنے عہدے کا چارج سنبھالنے کے بعد پہلی بڑی ملاقات میں امریکا، کینیڈا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ (جو کہ مجموعی طور پر ’فائیو آئیز‘ کہلاتے ہیں) کے وزرائے داخلہ سے ایک معاہدہ کیا ہے جس کا مقصد ان افراد کی واپسی کو یقینی بنانا ہے جن کے ان ممالک میں قیام کا کوئی قانونی جواز نہیں۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق شبانہ محمود نے کہا ہے کہ برطانیہ پاکستان سمیت اُن تمام ممالک کے شہریوں کو ویزے دینا معطل کرسکتا ہے جو غیر قانونی مہاجرین کی واپسی کے معاہدوں پر تیار نہیں ہوتے یا تعاون نہیں کرتے۔
اس معاہدے کے تحت تمام ممالک پر واضح ذمہ داری عائد کی گئی ہے کہ وہ اپنے ان شہریوں کو واپس لیں جو غیر قانونی طور پر کسی دوسرے ملک میں مقیم ہیں تاکہ واپسی کے عمل میں تیزی لائی جاسکے۔
برطانیہ کی وزیرداخلہ شبانہ محمود نے کہا کہ امیگریشن نظام کے غلط استعمال سے عوامی سلامتی کو سنگین خطرہ لاحق ہے اور ہم اس خطرے کا مقابلہ اپنے قریبی اتحادیوں کے ساتھ مل کر کر رہے ہیں۔
یاد رہے کہ ماضی میں جن ممالک کو غیر تعاون یافتہ قرار دیا گیا ہے ان میں پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، نائیجیریا، ایران، عراق اور گیمبیا شامل ہیں۔
فائیو آئیز ممالک نے ایک نئے عزم کے تحت وسائل کو یکجا کرنے اور مشترکہ آپریشنل فریم ورک کو مضبوط بنانے پر بھی اتفاق کیا ہے، جس کا مقصد آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے مہاجرین کی غیر قانونی نقل و حرکت کے مسئلے کو حل کرنا ہے۔



