spot_img

ذات صلة

جمع

امریکی فوج نے ایران پر حملے شروع کردیے

واشنگٹن (10 جون 2026) : آبنائے ہرمز کے قریب...

پاپا رازی کی کیا حقیقت ہے؟ حیران کن کہانی سامنے آگئی

پاپا رازی (Paparazzi)کسی ایک شخص کو نہیں بلکہ ان...

بے رحم شخص کا اونٹنی پر تشدد، دونوں آنکھیں نکال لیں

تھرپارکر : اندرون سندھ کے شہر تھرپارکر میں اونٹنی...

جھانوی کپور نے ’پیڈی‘ کے لیے کتنا معاوضہ لیا؟

بالی ووڈ اداکارہ جھانوی کپور کی فلم ’پیڈی‘ میں...

بجلی کمپنیوں کی تاریخی نجکاری، عوام کو کیا فائدہ ہوگا؟

اسلام آباد : حکومت نے توانائی شعبے میں بڑے اصلاحاتی فیصلوں کا عندیہ دیا ہے، بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کی نجکاری کا عمل شروع کردیا گیا۔

ملکی معیشت اس وقت صرف ترقی نہیں بلکہ ریاستی نظام کی بقا کے چیلنج سے دوچار ہے، جہاں ایک جانب حکومت مالی استحکام، آئی ایم ایف اہداف اور مالیاتی نظم و ضبط کی بات کر رہی ہے، وہیں دوسری طرف سرکاری اداروں کے بڑھتے خسارے اور توانائی شعبے کا گردشی قرض معیشت پر بھاری بوجھ بن چکا ہے۔

اے آر وائی نیوز کے پروگرام آن مائی ریڈار میں گفتگو کرتگے ہوئے وزیرِ مملکت برائے نجکاری محمد علی نے کہا کہ حکومت گزشتہ 6ماہ سے ڈسکوز کی مالی تنظیمِ نو پر کام کر رہی ہے تاکہ سرمایہ کاروں کو کلین بیلنس شیٹ فراہم کی جا سکے۔

ان کے مطابق زمین، پنشن واجبات اور دیگر مالی ذمہ داریوں کو الگ کرکے ڈھانچے کو سرمایہ کاری کے لیے زیادہ پرکشش بنایا جا رہا ہے۔

محمد علی کے مطابق حکومت ایسا ماڈل متعارف کروانا چاہتی ہے جس میں ٹیرف کارکردگی اور استعداد کی بنیاد پر طے ہو تاکہ صارفین پر اضافی بوجھ نہ پڑے اور ماضی کی طرح آئی پی پیز جیسے مسائل دوبارہ جنم نہ لیں۔

انہوں نے بتایا کہ پہلے مرحلے میں سرمایہ کاروں کو اظہارِ دلچسپی کے لیے 45 دن دیے گئے ہیں، جبکہ تینوں ڈسکوز کی بولی کا عمل 2026 کی آخری سہ ماہی تک مکمل کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ حکومت نے ابتدائی مرحلے میں یہ شرط بھی عائد کی ہے کہ کوئی بھی سرمایہ کار تین میں سے ایک سے زیادہ ڈسکوز نہیں خرید سکے گا۔

وزیرِ مملکت نے واضح کیا کہ ڈسکوز کے ملازمین کو فوری طور پر فارغ نہیں کیا جائے گا بلکہ ایک مخصوص مدت تک ان کے روزگار کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا۔

محمد علی کے مطابق حکومت نے ڈسکوز کی قیمتی اراضی کو نجکاری سے الگ رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ زمین ایک علیحدہ سرکاری ادارے کے تحت رکھی جائے گی جبکہ ڈسکوز کو لیز پر فراہم کی جائے گی تاکہ صارفین پر اضافی ٹیرف کا بوجھ نہ پڑے۔

علاوہ ازیں تازہ اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025 میں سرکاری ملکیتی اداروں (ایس او ایز) کے نقصانات 832 ارب روپے سے تجاوز کر گئے ہیں، جبکہ ان اداروں کے مجموعی خسارے تقریباً 6.5 کھرب روپے تک پہنچ چکے ہیں، ماہرین کے مطابق ان مسلسل نقصانات کا بوجھ بالآخر قومی خزانے اور عوام کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔

اس حوالے سے ماہرینِ معیشت کا کہنا ہے کہ اگر سرکاری اداروں میں اصلاحات نہ کی گئیں تو مالی استحکام کا خواب پورا کرنا مشکل ہوگا۔ ان کے مطابق سرکاری ادارے سالانہ سینکڑوں ارب روپے کے خسارے کے باوجود حکومتی گرانٹس پر چل رہے ہیں، جس سے قومی خزانے میں موجود “سوراخ” مزید گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔

spot_imgspot_img