پہلی عالمی جنگ کے دوران ایک کبوتر نے پیغام رسانی کے ذریعے 194 فوجیوں کی جان بچائی اس دوران اس کی ایک ٹانگ اور آنکھ بھی ضائع ہوئی، اس واقعے پر کئی کتابیں ایک فلم اور ایک گانا بھی بنایا جا چکا ہے۔
پہلی جنگِ عظیم کی جنگی تاریخ کا ایک انتہائی جذباتی واقعہ آج بھی لوگوں کو متاثر کرتا ہے، یہ کہانی ایک ایسے پیغام رساں کبوتر کی ہے جو آج اسمتھسونین میوزیم میں محفوظ ہے۔
سو سال سے زائد کا عرصہ گزرنے کے باوجود ’’لاسٹ بٹالین‘‘ کے نام سے مشہور 550 امریکی فوجیوں کی داستان آج بھی لوگوں کے ذہنوں میں زندہ ہے، جو فرانس کے ارگون جنگل میں دشمن کی لائنوں کے پیچھے محصور ہوگئے تھے۔ اس واقعے پر کئی کتابیں لکھی گئیں، 2001 میں ٹی وی فلم بنی اور 2016 میں سوئیڈن کے ہیوی میٹل میوزیکل بینڈ سباٹون نے اس پر گانا بھی بنایا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ بٹالین درحقیقت نہ تو واقعی گم ہوئی تھی اور نہ ہی وہ مکمل بٹالین تھی۔ اس کے کمانڈر میجر چارلس وِٹلسی بخوبی جانتے تھے کہ ان کے سپاہی کہاں موجود ہیں، مسئلہ یہ تھا کہ اعلیٰ کمان کو ان کے مقام کا درست علم نہیں ہو پا رہا تھا۔
وِٹلسی 308ویں انفنٹری رجمنٹ کی پہلی بٹالین کے کمانڈر تھے۔ ان کے ساتھ اسی رجمنٹ کی دوسری بٹالین اور 307ویں انفنٹری کی ایک کمپنی بھی شامل تھی۔ یہ تمام یونٹس 77ویں ڈویژن کا حصہ تھے، جو زیادہ تر نیویارک سٹی سے بھرتی سپاہیوں پر مشتمل تھی اور ’’میٹروپولیٹن ڈویژن‘‘ کہلاتی تھی۔
اکتوبر 1918 تک یہ ڈویژن شدید لڑائیوں اور بھاری جانی نقصان سے گزر چکی تھی۔ امریکی فوج نے میوز ارگون کے محاذ پر تاریخ کا سب سے بڑا فوجی حملہ شروع کیا تھا، جس میں 12 لاکھ فوجی شریک تھے جس کا مقصد جرمن سپلائی لائن کاٹنا تھا۔
2اکتوبر 1918 کو میجر وِٹلسی اور ان کے جوانوں کو گھنے جنگل میں شمال کی جانب پیش قدمی کا حکم ملا، چاہے دائیں یا بائیں جانب موجود یونٹس سے رابطہ ٹوٹ ہی کیوں نہ جائے، دونوں بٹالینز پہلے ہی تعداد میں کمزور تھیں مگر پھر بھی حملے کا حکم دیا گیا۔
صبح ساڑھے چھ بجے دھند اور بارش میں پیش قدمی شروع ہوئی۔ شدید فائرنگ کے باوجود امریکی فوجی ایک اہم پہاڑی مقام پر قابض ہوگئے اور دشمن کی لائن توڑنے میں کامیاب رہے۔ وِٹلسی نے پیچھے اطلاع بھجوائی کہ وہ اپنے ہدف تک پہنچ چکے ہیں اور مزید کمک درکار ہے۔
اس دور میں رابطے کے ذرائع محدود تھے، جنگل میں فون لائن بچھانا ممکن نہ تھا، اس لیے پیغام رساں سپاہی یا کبوتر استعمال کیے جاتے تھے، وِٹلسی کے پاس 8 پیغام رساں کبوتر تھے۔
تاہم حالات تیزی سے بگڑنے لگے ساتھ موجود فرانسیسی اور امریکی یونٹس آگے نہ بڑھ سکے۔ 2 اکتوبر کی رات تک تقریباً 450 امریکی فوجی ایک محدود علاقے میں محصور ہو گئے ان کے پاس نہ اضافی گولہ بارود تھا، نہ خوراک اور نہ پانی۔
اگلے دن جرمن فوج نے دوبارہ پہاڑی پر قبضہ کر لیا اور امریکی فوجیوں کو چاروں طرف سے گھیر لیا۔ فائرنگ میں ہلاکتیں بڑھتی گئیں۔ وِٹلسی نے مدد کے لیے کبوتروں کے ذریعے پیغام بھیجے، مگر کوئی فوری کامیابی نہ ملی۔
4اکتوبر کو ایک امریکی طیارہ اوپر سے گزرا، مگر پائلٹ نے امریکیوں کو ہی جرمن سمجھ لیا اور امریکی توپخانے نے اپنی ہی فوج پر گولہ باری شروع کر دی۔
اس نازک لمحے پر یونٹ کے کبوتر سنبھالنے والے سپاہی پرائیویٹ عمر رچرڈز کے پاس صرف دو کبوتر بچے تھے۔ ان میں سے ایک ’’شیئر آمی‘‘ (فرانسیسی زبان میں ’’پیارا دوست‘‘) تھا۔ وِٹلسی نے ایک پیغام لکھا
“ہم سڑک 276.4 کے متوازی ہیں۔ ہماری اپنی توپیں ہم پر گولہ باری کر رہی ہیں۔ خدا کے لیے اسے روکو۔”
کبوتر چھوڑا گیا۔ کچھ دیر وہ درخت پر بیٹھا رہا، مگر پھر اڑ گیا۔ پچیس منٹ بعد وہ ہیڈ کوارٹر پہنچ گیا۔ فوراً گولہ باری رکوا دی گئی۔
راستے میں شیئر آمی (کبوتر) جرمن فائرنگ سے شدید زخمی ہو چکا تھا۔ اس کے سینے میں گولی لگی، ایک آنکھ ضائع ہو گئی اور ایک ٹانگ تقریباً الگ ہو چکی تھی، مگر اس نے پیغام پہنچا دیا۔
5اور 6 اکتوبر کو امریکی طیاروں نے فضائی راستے سے رسد پہنچانے کی کوشش کی، اگرچہ زیادہ تر سامان ہدف سے چوک گیا۔ 6 اکتوبر کو ایک طیارے کے عملے نے دشمن کی فائرنگ کے ذریعے امریکیوں کی درست جگہ معلوم کرلی۔ اس مشن میں دونوں امریکی فضائی افسر شہید ہوگئے مگر ان کی قربانی سے توپخانے کو درست نشانہ مل گیا۔
7اکتوبر کو جرمنوں نے امریکیوں کو ہتھیار ڈالنے کا پیغام بھیجا، مگر امریکی افسران نے انکار کر دیا۔ اسی رات امریکی کمک وہاں پہنچ گئی کیونکہ جرمن فوج پیچھے ہٹ چکی تھی۔
8اکتوبر کو ’’لاسٹ بٹالین‘‘ کے 190 زندہ بچ جانے والے فوجی امریکی لائنوں میں واپس پہنچے۔ 107 فوجی شہید ہوچکے تھے جبکہ درجنوں زخمی یا لاپتہ تھے۔

یہ سپاہی قومی ہیرو بن گئے۔ ’’لاسٹ بٹالین‘‘ کی اصطلاح اخبارات نے دی۔ شیئر آمی کو 77ویں ڈویژن کی علامت بنا دیا گیا۔ اس کی ٹانگ کے لیے لکڑی کی مصنوعی ٹانگ لگائی گئی۔ بعد ازاں وہ 1919 میں مرگیا اور آج اسمتھسونین انسٹی ٹیوٹ میں محفوظ ہے۔
میجر وِٹلسی کو میڈل آف آنر دیا گیا، مگر جنگ کی یادیں ان کے لیے عذاب بن گئیں۔ مسلسل ذہنی دباؤ اور خوفناک خوابوں کے باعث وہ ٹوٹتے چلے گئے۔ نومبر 1921 میں ایک بحری جہاز پر وہ اچانک لاپتہ ہوگئے اور دوبارہ کبھی نظر نہ آئے۔
دوسری جانب کپتان جارج مکمرٹری طویل عمر پاتے ہوئے 82 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ وہ زندگی بھر لاسٹ بٹالین کے ساتھیوں کے لیے تقریبات کا اہتمام اپنے خرچ پر کرتے رہے۔
یہ کہانی آج بھی قربانی، حوصلے اور ایک چھوٹے سے کبوتر کے غیر معمولی کردار کی یاد دلاتی ہے، جس نے تاریخ کا رخ موڑ دیا۔



