ٹیکساس : امریکا میں جانوروں کا گوشت کھانے والے ننھے کیڑوں کی اس خوفناک بیماری نے پنجے گاڑ لیے، یہ خطرناک انفیکشن ایک ماہ کے بچھڑے میں پایا گیا۔
امریکا کی ریاست ٹیکساس میں گوشت خور کیڑوں کی بیماری کے دوسرے خطرناک کیس کی تصدیق نے مویشی پالنے کی صنعت میں خوف و ہراس پھیلا دیا۔
جانوروں میں گوشت کھانے والے کیڑوں کی اس خوفناک بیماری کو طبی زبان میں مایاسس اور عام بول چال میں کیڑے پڑنا کہا جاتا ہے۔
یہ بنیادی طور پر مکھیوں (جیسے اسکریو ورم) کی جانب سے کھلے زخموں یا قدرتی سوراخوں میں انڈے دینے سے پیدا ہوتی ہے۔
امریکی محکمہ زراعت کے مطابق یہ نیا کیس ٹیکساس کے علاقے زاوالا کاؤنٹی میں سامنے آیا، جو پہلے متاثرہ مقام سے محض 9 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ خطرناک انفیکشن ایک ماہ کے بچھڑے میں پایا گیا، جبکہ حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ مزید مشتبہ کیسز کی بھی جانچ کی جا رہی ہے۔
امریکی محکمہ زراعت کے مطابق گوشت خور “اسکریو ورم” ایسے کیڑے ہیں جو گرم خون والے جانوروں کے زخموں یا جسم کے نرم حصوں میں انڈے دیتے ہیں۔
ان انڈوں سے نکلنے والے لاتعداد لاروے زندہ گوشت میں داخل ہوکر اسے کھانا شروع کر دیتے ہیں، جس سے جانور شدید تکلیف اور بعض اوقات موت کا شکار ہوجاتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اگر اس وبا کو بروقت نہ روکا گیا تو یہ ٹیکساس کی مویشی صنعت کے لیے سنگین معاشی بحران بن سکتی ہے۔

واضح رہے کہ گائے کے بچھڑوں میں کئی مہلک بیماریاں ہوتی ہیں، جن میں گھوڑ گھاؤ، منہ کھر، اینتھراکس اور نیومونیا سب سے عام اور خطرناک ہیں، یہ بیماریاں سانس، خوراک یا جراثیم کے ذریعے پھیلتی ہیں اور بروقت علاج نہ ہونے پر جان لیوا ثابت ہوسکتی ہیں۔
یاد رہے کہ 1960 کی دہائی میں بھی اس خطرناک کیڑے نے امریکا کی سرحدی ریاستوں میں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی تھی، جس سے جنگلی حیات اور مویشی پال حضرات کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑا تھا۔



