spot_img

ذات صلة

جمع

مارکیٹیں کتنے بجے بند ہوں گی؟

حکومت نے ایندھن کی بچت پالیسی کے تحت مزید...

بنوں میں بارود سے بھری گاڑی پولیس اسٹیشن سے ٹکرا گئی

بنوں میں بارود سے بھری گاڑی ڈومیل پولیس اسٹیشن...

بیرسٹر گوہر کے نام پر ہیکرز نے 5 لاکھ روپے لوٹ لیے

چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کے نام پر...

’موٹر سائیکل سواروں کے لیے 100 روپے فی لیٹر سبسڈی دی جائے گی‘

وفاقی وزیر برائے خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا ہے...

ایپسٹین فائلز میں زہران ممدانی کی والدہ کی تصاویر اصلی یا جعلی؟ حقیقت عیاں ہوگئی

جیفری ایپسٹین سے متعلق نئے دستاویزی ثبوت میں دنیا کی دیگر معروف شخصیات کے ساتھ ساتھ زہران ممدانی کی والدہ کا بھی ذکر آیا ہے۔

مذکورہ دستاویزات میں نیویارک سٹی کے میئر زہران ممدانی کی والدہ اور مشہور فلم ڈائریکٹر میرا نائر کی چند تصاویر بھی سامنے آئی ہیں۔

امریکی محکمۂ انصاف کی جانب سے جاری کی گئی نئی ایپسٹین فائلز میں نیویارک کے میئر زہران ممدانی کی والدہ معروف فلم ساز میرا نائر کا نام ایک ای میل میں سامنے آیا ہے جس میں 2009ء میں ان کی فلم کی آفٹر پارٹی کا حوالہ دیا گیا ہے۔

mamdani

دستاویزات میں ان پر کسی قسم کے الزام کی تفصیل شامل نہیں ہے تاہم ای میل میں صرف تقریب میں موجودگی کا ذکر کیا گیا ہے۔

اس حوالے سے سوشل میڈیا پر کچھ تصاویر شیئر کرتے ہوئے یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ میرا نائر اور زہران ممدانی جیفری ایپسٹین اور دیگر معروف شخصیات کے ساتھ نظر آرہی ہیں، لیکن یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا کیا یہ تصویریں واقعی اصلی یا سچائی پر مبنی ہیں؟

Zohran Mamdani's mother

جب ان تصاویر کا بغور تفصیلی معائنہ یا فرانزک کیا گیا تو حقیقت سامنے آگئی، بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق اے آئی کے ذریعے ان تصاویر کی حقیقت جاننے کی کوشش کی تو صاف نظر آگیا کہ ان تصاویر میں بہت سی خامیاں ہیں اور ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں بلکہ یہ تمام تصاویر (مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ ) اے آئی جنریٹڈ ہیں۔

لہٰذا یاد رکھیں کبھی کسی پوسٹ یا تصویر پر تب تک یقین نہ کریں کہ جب تک اس کی کسی معتبر ذرائع سے تصدیق نہیں ہوجاتی یا آپ خود اس سے مطمئن نہیں ہوجاتے۔

ممدانیز مدر

واضح رہے کہ امریکی محکمۂ انصاف نے گزشتہ روز جیفری ایپسٹین سے متعلق 30 لاکھ سے زائد صفحات پر مشتمل دستاویزات، 2 ہزار ویڈیوز اور تقریباً ایک لاکھ 80 ہزار تصاویر جاری کی تھیں، جن میں متعدد اہم شخصیات کے نام شامل ہیں۔ ان دستاویزات میں 21 اکتوبر 2009ء کی ایک ای میل بھی شامل ہے جو امریکی پبلسِسٹ پیگی سیگل نے جیفری ایپسٹین کو ارسال کی تھی۔

spot_imgspot_img