کراچی : خاتون ڈرگ ڈیلر انمول پنکی سے متعلق مزید تہلکہ خیز انکشافات سامنے آگئے، ملزمہ نے گرفتاری سے قبل خود اپنے ہاتھ تیزاب سے جلا دیے تھے۔
تفتیشی ذرائع کے مطابق ملزمہ کہنا تھا کہ پورے ملک میں اس کے معیار کی کوکین کوئی اور تیار کر ہی نہیں سکتا، ملزمہ نہ صرف مہنگی ترین کوکین تیار کرتی تھی بلکہ اپنی تیار کردہ کوکین کو “گولڈ” کا نام دیتی تھی اور اسے خصوصی پیکنگ میں فروخت کیا جاتا تھا۔
انمول پنکی کی گرفتاری کیلیے مارے گئے چھاپے کے دوران بڑی تعداد میں چھوٹی ڈبیاں اور شیشیاں بھی برآمد ہوئیں جن پر کوئن میڈم پنکی ڈان” انگریزی میں درج تھا۔
تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ گرفتاری سے قبل ملزمہ نے اپنی شناخت چھپانے کیلیے ہاتھوں کی جلد اور نشانات کو تیزاب سے جلانے کی بھی کوشش کی تاکہ فرانزک شواہد حاصل نہ کیے جاسکیں۔
ابتدائی تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ملزمہ کو ریڈ وائن پینے کا شوق تھا اور اس نے مبینہ طور پر 5 لاکھ روپے مالیت کے انگور منگوائے اور انہیں خود کشید کرکے اپنے لیے ریڈ وائن تیار کی تھی۔
ذرائع کے مطابق وہ نئی تیار ہونے والی کوکین کو سب سے پہلے خود استعمال کرکے اس کا معیار چیک کرتی تھی، جس کے بعد اس کی پیکنگ اور سپلائی کا عمل شروع کیا جاتا تھا۔
رپورٹ کے مطابق انمول پنکی نے لاہور اور کراچی میں الگ الگ خفیہ لیبارٹریاں قائم کر رکھی تھیں، کراچی میں اس کا نیٹ ورک زیادہ متحرک تھا جبکہ منشیات کی بڑی مقدار کی تیاری لاہور میں کی جاتی تھی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزمہ آئندہ دو سے تین ماہ میں منشیات کی نئی اور مہنگی قسم متعارف کرانے کی تیاری کر رہی تھی، تاہم پولیس کارروائی کے باعث منصوبہ مکمل نہ ہوسکا۔
تفتیش میں یہ انکشاف بھی سامنے آیا کہ ملزمہ مبینہ طور پر لاکھوں روپے خیرات میں تقسیم کردیا کرتی تھی۔ پولیس ذرائع کے مطابق وہ روزانہ لاکھوں روپے علیحدہ رکھتی اور ضرورت مندوں میں بانٹ دیتی تھی، ایک واقعے میں اس نے مبینہ طور پر ایک فقیر کو 70 لاکھ روپے تک دیے تھے۔
جس پولیس افسر یا اہلکار نے اس کو پکڑنے کی کوشش کی تو وہ کروڑٖ پتی ہوگیا جس کی وجہ سے پنکی کو پکڑنے کے بجائے اس کو چھوڑنا ان کیلیے زیادہ فائدہ مند تھا۔
ذرائع کے مطابق انمول پنکی کے خلاف مجموعی طور پر کراچی اور لاہور میں منشیات، منی لانڈرنگ اور دیگر سنگین نوعیت کے تقریباً 15 مقدمات درج ہیں۔
سات سال قبل 2019 میں منشیات فروشی کے الزام میں اینٹی نارکوٹکس فورس کی مدعیت میں اس کیخلاف ایف آئی آر درج ہوچکی ہے، پولیس مقدمات میں وہ مسلسل اشتہاری رہی۔
حکام کا کہنا ہے کہ ملزمہ کا نیٹ ورک انتہائی بااثر اور منظم تھا، جس کے باعث اس کے خلاف کارروائی کرنا آسان نہیں تھا۔



