spot_img

ذات صلة

جمع

امریکہ کو ایران سے کیا خطرہ ہے؟ پیٹرو ڈالر سسٹم یا کچھ اور

مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے پیچھے اصل مقاصد کیا ہیں اور امریکہ کو ایران سے کون سا خطرہ لاحق ہے؟ یہ وہ سوال ہے جس کا جواب تاحال حل طلب ہے۔

امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کے پس منظر میں ایک نئی بحث سامنے آئی ہے کہ آیا واشنگٹن کو تہران سے اصل خطرہ جوہری پروگرام سے یا پیٹرو ڈالر سسٹم یعنی عالمی مالیاتی نظام کو درپیش چیلنج سے ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کو سخت دھمکیوں کے باوجود تہران اپنے مؤقف پر قائم ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کشیدگی کی ایک بڑی وجہ ایران کی جانب سے ڈالر پر مبنی عالمی تجارتی نظام کو چیلنج کرنا ہوسکتا ہے۔

ذرائع کے مطابق ایران پہلے ہی امریکی پابندیوں کے باعث عالمی ڈالر سسٹم سے بڑی حد تک باہر ہو چکا ہے اور اب وہ تیل کی تجارت کو متبادل کرنسیوں میں منتقل کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جس میں یورو، چینی یوآن اور ایرانی ریال شامل ہیں۔

ماہرین کے مطابق اگر ایران آبنائے ہرمز سے گزرنے والی تیل کی تجارت کو ڈالر کے بجائے دیگر کرنسیوں میں منتقل کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو اس کے عالمی معیشت پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

یاد رہے کہ دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل آبنائے ہرمز کے ذریعے ہوتی ہے جس پر موجودہ حالات میں ایران کا قبضہ ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے امریکی ’پیٹرو ڈالر سسٹم‘ کو نقصان پہنچ سکتا ہے، جو 1970کی دہائی سے عالمی معیشت میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔

اس نظام کے تحت دنیا بھر میں تیل کی عالمی تجارت امریکی ڈالر میں کی جاتی ہے، جس سے امریکی معیشت کو گزشتہ کئی دہائیوں سے مسلسل فائدہ پہنچ رہا ہے۔

اگر یہ نظام کمزور ہوجاتا ہے تو ڈالر کی عالمی طلب میں کمی آسکتی ہے، جس کے نتیجے میں امریکی معیشت کو یقینی طور پر شدید مالی دباؤ کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب امریکہ پہلے ہی بڑے قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔

اس کے علاوہ اگر دیگر ممالک بھی ایران کے نقش قدم پر چلتے ہوئے متبادل کرنسیوں میں تجارت شروع کر دیتے ہیں تو یہ عالمی مالیاتی نظام میں بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔

یورپی ماہرین نے بھی خبردار کیا ہے کہ حتیٰ کہ اگر ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کم ہو جائے، تب بھی مالیاتی نظام پر اس کے اثرات باقی رہ سکتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ صورتحال محض ایک علاقائی تنازع نہیں بلکہ ایک ممکنہ ’مالیاتی جنگ‘کی شکل اختیار کر سکتی ہے، جس کے اثرات پوری دنیا پر مرتب ہوں گے۔

spot_imgspot_img