فلوریڈا : امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگسیتھ نے کہا ہے کہ امریکا آج رات ایران پر بڑا حملہ کرے گا، ہمارے پاس فیصلہ کن پلان موجود ہے۔
فلوریڈا میں میڈٖیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے ایران کو مزید حملوں کی دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ اگر تہران نے واشنگٹن کے ساتھ معاہدہ نہ کیا تو امریکا ایران کی اہم تنصیبات کو نشانہ بنائے گا۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق امریکی وزیر جنگ کا کہنا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ہی واضح کرچکے ہیں کہ ایران مذاکرات کے معاملے میں سنجیدہ رویہ اختیار نہیں کر رہا اگر وہ معاہدے کی طرف نہیں آتا تو پھر اسے امریکی بمباری کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز کا کنٹرول امریکا کے پاس رہے گا، اب تک وہاں سے ٹینکرز کے ذریعے100ملین بیرل تیل گزارا جاچکا ہے۔
پیٹ ہیگسیتھ نے عندیہ دیا کہ امریکا کی جانب سے کیے جانے والے ممکنہ حملے واضح اور انتہائی طاقتور ہوں گے، تاہم انہوں نے ان تنصیبات کی تفصیلات فراہم نہیں کیں جنہیں نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ایران میں اہم تنصیبات پر بمباری کی جائے گی، آج ہونے والے حملے مضبوط اور واضح ہوں گے، زیادہ تر ایرانی میزائل اپنے ہدف کو نشانہ نہیں بنا پاتے۔
امریکی وزیر جنگ نے دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز پر امریکا کا کنٹرول موجود ہے اور واشنگٹن کئی ہفتوں سے اس اہم آبی گزرگاہ کے ذریعے تیل کی ترسیل جاری رکھے ہوئے ہے۔ تاہم انہوں نے اپنے اس دعوے کے حق میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے پاس اب بھی امریکا کے ساتھ معاہدہ کرنے کا موقع موجود ہے، لیکن اگر تہران نے سخت مؤقف برقرار رکھا تو صورتحال مزید کشیدہ ہوسکتی ہے۔



