وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ افغان وفد کا کہنا ہےکہ ٹی ٹی پی کے دہشتگرد افغان سرزمین پر پاکستانی پناہ گزین ہیں اور ٹی ٹی پی کے دہشتگرد اپنے گھروں میں پاکستان واپس جا رہے ہیں۔
خواجہ آصف نے ایکس پر لکھا کہ کیسے پناہ گزین ہیں جو اپنےگھر انتہائی تباہ کن اسلحہ سے مسلح ہو کر جا رہے ہیں کیسے پناہ گزین ہیں جو اپنے گھر سڑکوں، بسوں، ٹرکوں، گاڑیوں پر سوار ہو کر نہیں جا رہے یہ کیسے پناہ گزین ہیں جو چوروں کی طرح پہاڑوں میں دشوارگزار راستوں سے پاکستان داخل ہو رہے ہیں۔
وزیردفاع کا کہنا تھا کہ افغان وفد کی یہ تاویل ہی ان کی نیت کے فتور کا ثبوت ہے۔
میزبان ملک کی درخواست: پاکستان افغان طالبان سے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے پر رضامند
اس سے قبل انہوں نے کہا کہ کابل کی پوری قیادت بھارت کے ہاتھوں میں کھیل رہی ہے، چار مرتبہ معاہدہ فائنل ہوا لیکن ہربار کابل نے انکار کیا۔ افغان طالبان مانتے ہیں ان کی سرزمین دہشت گردی کے لیے استعمال ہوتی ہے لیکن تحریری طور پر معاہدہ نہیں کرنا چاہتے ہیں۔
ثالثی کرنے والے بھی کابل کی نیت کے فتور کو سمجھ گئے ہیں، کابل چاہتا ہی نہیں تھا کہ کوئی معاہدہ بے پائے۔
وزیردفاع نے کہا کہ افغانستان سلطنتوں کا نہیں بلکہ خود اپنے لوگوں کیلئے قبرستان رہا ہے اور ایسی جگہ ہے جہاں سلطنتوں نے اپنا کھیل کھیلا۔
پاکستان انہیں مکمل فنا کرنے اور غاروں میں دھکیلنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جس کیلئے اپنی عسکری طاقت کا ایک جزو بھی استعمال نہیں کرنا پڑے گا۔



