پاک افغان سرحدی کشیدگی میں کمی پر بابِ دوستی جزوی طور پر فعال کردی گئی جس کے بعد افغان مہاجرین کی واپسی کا عمل دوبارہ شروع ہوگیا ہے۔
سرحد کھولنے کا مقصد صرف افغان مہاجرین کی واپسی کا عمل بحال کرنا ہے جبکہ تجارتی اور عام آمدورفت تاحال معطل ہے۔
اس حوالے سے چمن پولیس کا کہنا ہے کہ پاک افغان سرحد باب دوستی کے راستے پاکستان سے گزشتہ روز 818افغان خاندان اپنے وطن واپس چلے گئے۔
پولیس کے مطابق افغانستان واپس جانے والے مہاجرین کی تعداد 4463 تھی، ڈپٹی کمشنر کا کہنا ہے کہ افغان مہاجرین کی یہ تعداد روزانہ کے حساب سے اب تک سب سے زیادہ ہے۔
ڈی سی چمن نے میڈیا کو بتایا کہ یکم اپریل سے آج تک ایک لاکھ30ہزار سے زائد افغان مہاجرین چمن کے راستے واپس جاچکے ہیں۔
پاک افغان بارڈر صرف افغان مہاجرین کی واپسی کے لئے گزشتہ روز کھولا گیا تھا۔ سرحد پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں اور متعلقہ ادارے مہاجرین کو رجسٹریشن، اسکریننگ اور سفری سہولیات فراہم کر رہے ہیں۔
مزید پڑھیں : افغان مہاجرین کو رضاکارانہ طور پر پاکستان چھوڑنے کیلیے 3 دن کی مہلت
یاد رہے کہ پاک افغان بارڈر پر گزشتہ دنوں ہونے والی کشیدگی کے پیش نظر پاکستان سے ملک بدر کیے گئے اور رضاکارانہ طور پر واپس جانے والے افغان باشندے بھی سینکڑوں کی تعداد میں سرحد پر پھنسے ہوئے تھے۔
ضلعی انتظامیہ کے ساتھ چمن کے مقامی لوگوں نے انسانی ہمدردی کے تحت ان کے لیے کھانے پینے کا بندوبست کیا تھا۔



