بھارتی اداکار ارشد وارثی پاکستانی مزاح کو توہین آمیز کہہ کر مشکل میں آگئے ہیں۔
بالی ووڈ اداکار ارشد وارثی کا کہنا ہے کہ میں پاکستانی مزاح کا کوئی بہت بڑا مداح نہیں ہوں خالصتاً اس لیے کیونکہ یہ توہین آمیز اور تذلیل پر مبنی ہوتا ہے۔ پاکستانی مزاح ہر وقت تھوڑا بہت توہین آمیز ہوتا ہے، نام بگاڑنا اور اس طرح کی چیزیں چنانچہ بہت سے لوگ اسے پسند کرتے ہیں لیکن میں ذاتی طور پر جنسی مزاح کا بڑا مداح نہیں ہوں۔
انہوں نے کہا کہ لوگ اسے پسند کرتے ہیں لیکن یہ مجھے یہ پسند نہیں ہے۔
فلمساز راج کمار ہیرانی نے جواب دیا کہ ثقافتی اور سماجی شناختوں کو چھیڑے بغیر کامیڈی کا وجود ممکن ہی نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر آپ ہر چیز کو اس حد تک صاف ستھرا (سینیٹائز) کر دیں گے تو آپ کو مزاح ملے گا ہی کیسے؟ ثقافتی طور پر بھی ہم نے لطیفے سنے ہیں، میں ایک سندھی ہوں میں نے سندھیوں پر لطیفے سنے ہیں۔ آپ نے سردار جیوں پر لطیفے سنے ہیں اور پولش لطیفے بھی ہوتے ہیں، اگر آپ ان سب کو نکال دیں گے، تو مزاح خود ہی ختم ہو جائے گا۔
وارثی نے ہیرانی سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ لوگوں کو باتوں کو ہلکا لینا چاہیے، بطور انسان، مجھے لگتا ہے کہ ہم سب کو تھوڑا لائٹ لینے کی ضرورت ہے۔
تاہم ارشد وارثی کی یہ گفتگو پاکستانی سوشل میڈیا صارفین کو بالکل پسند نہیں آئی جن میں سے بہت سے لوگوں نے پاکستانی مزاح کے مقابلے میں بھارتی کامیڈی شوز کو زیادہ توہین آمیز قرار دیا۔
ایک صارف نے سوال کیا کہ وارثی کو کیا مسئلہ ہے؟ ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی مزاح میں کوئی توہین آمیز مواد نہیں ہوتا جبکہ بھارتی لطیفوں میں توہین اور گالی گلوچ دونوں شامل ہوتے ہیں۔
دوسرے صارف نے انہوں نے ریلٹی شوز اور کپل شرما کے شو کو “ذومعنی” (ڈبل میننگ) مواد کی مثالوں کے طور پر پیش کیا۔
صارف نے سوال کیا کہ کیا وارثی نے “انڈیاز گاٹ لیٹنٹ یا سمے رائنا کے ساتھیوں جیسے بھارتی اسٹینڈ اپ کامیڈینز کو دیکھا ہے؟
ایک اور صارف نے کہا کہ پاکستانی آپ کی فلاپ سولو ہیرو فلموں کے کوئی بڑے مداح نہیں ہیں، ہندی سنیما کی کامیڈی دم گھٹنے والی تھی اس سے پہلے کہ اس نے پاکستانی کامیڈی کو اپنایا، سب سے بڑی کامیابی کپل شرما کا ابھرنا ہے۔ انہوں نے اسی انداز کو اپنایا اور اسے اگلے درجے پر لے گئے، ظاہر ہے کہ یہ ان کی اپنی صلاحیتوں کی وجہ سے تھا، لیکن نام بگاڑنے پر کوئی بحث نہیں ہو سکتی۔
ایک صارف نے کہا کہ بھارتی کامیڈی یا تو گالی گلوچ پر مبنی ہے یا پھر نسل پرستی پر ہوتے ہیں۔
پاکستانی صارف نے کہا کہ میں آپ کو یاد دلاتا چلوں کہ ‘انڈیاز گاٹ لیٹنٹ’ کو ان کے توہین آمیز مزاح کی وجہ سے ایک سال کے لیے بند کر دیا گیا تھا اور پرانیت مورے کا حالیہ معاملہ بھی سب کے سامنے ہے، دیکھو بات کون کر رہا ہے بالی ووڈ کی تھرڈ کلاس، ڈی گریڈ فلاپ کامیڈی فلمیں، ایک اداکار جو نام نہاد محب وطن طوطے کا کردار ادا کر رہا ہے۔



