کراچی : گلشن اقبال نیپا چورنگی کے قریب مین ہول میں بچے کے گرنے کے بعد اس کی تلاش کا عمل جاری ہے، مشتعل شہریوں نے احتجاجاً سڑک بلاک کردی۔
اس حوالے سے 3 سالہ بچے ابراہیم کے والد نبیل نے بتایا کہ میں بیوی اور بیٹے کے ہمراہ شاپنگ مال آیا تھا،ہم شاہ فیصل کالونی کے رہائشی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ہم شاپنگ کرکے باہر نکلے ہی تھے کہ میرا بیٹا ہاتھ چھڑا کر بھاگا، موٹر سائیکل مین ہول کے قریب کھڑی کی تھی۔
بچے کے والد کا کہنا تھا کہ میری آنکھوں کے سامنے میرا بیٹا گٹر میں گرا ہے، مین ہول پر ڈھکنا موجود نہیں تھا، ابراہیم میری اکلوتی اولاد تھی، بہت مشکل وقت ہے،اس کی تلاش جاری ہے۔
مین ہول میں 3 سال کے بچے کے گرنے کے افسوسناک واقعے کے بعد نیپا چورنگی پر مشتعل شہریوں نے بھرپور احتجاج کیا جس کے سبب گلشن اقبال جانے والا روڈ بند ہوگیا۔
مشتعل مظاہرین نے سندھ حکومت کے خلاف شدیدی نعرے بازی کی، شہریوں نے احتجاج کرتے ہوئے نیپا چورنگی سے حسن اسکوائر جانے والی سڑک بند کردی، احتجاج کے باعث شاہراہ پر ٹریفک جام ہوگیا، جس سے گاڑیوں کی طویل قطار بن گئی۔
مزید پڑھیں : کراچی میں ایک اور بچہ کھلے گٹر میں گر کر جاں بحق ہوگیا
اے آر وائی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے ننھے ابراہیم کے دادا کا کہنا تھا کہ بچے کا والد موٹر سائیکل کھڑی کررہا تھا، بچہ والد کے پیچھے آیا تو کھلے ہوئے مین ہول میں گر گیا۔
محمود الحسن کا کہنا ہے کہ ابراہیم والدین کا اکلوتا بیٹا ہے، ریسکیو کے کام سے مطمئن نہیں ہیں انہوں نے مزید مشینری بھیجنے اور تلاش کا کام تیز کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔
اللہ کے واسطے میرے بچے کو بچالو، مین ہول میں گرنے والے بچے کی ماں رو رو کر ہلکان



