اگر قانون بنانے والوں اور قانون سازی کرنے والوں کے ساتھ ہی فراڈ ہوجائے تو آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ جعلساز کس قدر شاطر ہوگئے ہیں۔
اے آر وائی نیوز کے مطابق اراکین قومی اسمبلی بھی اب اسکیم اور فراڈ کرنے والوں سے محفوظ نہیں رہے، مخصوص نشت پر منتخب ہونے والی رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر نکہت شکیل کے ساتھ جعلسازی کا افسوسناک واقعہ پیش آیا، دھوکا دہی کے واقعے میں نوسربازوں نے ان کے عزیزوں، رشتے داروں اور دوستوں سے رابطہ کرتے ہوئے 15 لاکھ روپے ہتھیالیے۔
رکن قومی اسمبلی اور پارلیمانی سیکریٹری برائے وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نکہت شکیل نے اے آر وائی نیوز کے مارننگ پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ چاہے پارلیمنٹیرین ہوں یا عام انسان غلطی کسی سے بھی ہوسکتی ہے انسان خطا کا پتلا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ہیکرز بہت ذہین ہوتے ہیں اور یہ لوگ بہت زیادہ چیزوں کا مشاہدہ کرتے ہیں، جعلسازوں نے مجھے اتوار کی صبح فون کیا مگر میں بار بار ان کی کال منقطع کررہی تھی، میری پیر کو ہیلتھ کمیٹی کی میٹنگ تھی۔
یہ لوگ مجھے بار بار کال کرکے کہہ رہے تھے میرے کچھ پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کاؤنسل سے کچھ ڈاکیومنٹس ہیں جو آرہے ہیں، کافی دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ میٹنگ سے پہلے کچھ پیپرز آتے ہیں تاکہ ہم ان کا جائزہ لے لیں۔
رکن قومی اسمبلی نکہت شکیل نے کہا کہ یہ آپ کے پیپرز ہیں جو مجھے ڈلیور کروانے ہیں میں بار بار اس کا فون منقطع کررہی تھی مگر پتا نہیں کہ کس لمحے کیا ہوا اور میرا فون ہیک ہوگیا۔
پارلیمانی سیکریٹری برائے وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نے بتایا کہ میں نے فوراً ہی این سی سی آئی اے کو درخواست دی اور ان کی ویب سائٹ پر اپنی شکایت درج کروا دی تھی، اس کے علاوہ واٹس ایپ والوں کو ای میل بھی کردیا تھا۔
انھوں نے کہا کہ تاہم بدقسمتی سے مجھے آج تک میری شکایت کا کوئی رسپانس نہیں ملا، میں ایف آئی اے کے اسلام آباد گئی اور گارڈ کو اپنا تعارف کرواکر کہا کہ ڈی جی سے ملنا ہے تو اس نے گیٹ نہیں کھولا اور کہا کہ ڈی جی تو ابھی نہیں ہیں۔
این سی سی آئی اے کے آفس آگئی تو وہاں بھی بالکل سناٹا تھا مگر ایک صاحب مل ہی گئے تو انھوں نے کہا کہ آپ کے ساتھ فراڈ تو کراچی میں ہوا ہے اس لیے آپ کو کراچی جاکر ہی ایف آئی اے سے بات کرنا ہوگی۔
نکہت شکیل نے کہا کہ سب سے زیادہ قانون سازی شاید پاکستان میں ہوتی ہے مگر مسائل اس کے نفاذ میں آتے ہیں، جب میرے ساتھ فراڈ ہوا تو مجھے پتا چلا کہ کہاں کہاں پر کمزوریاں ہیں۔
پارلیمانی سیکریٹری برائے وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نے کہا کہ اب انشااللہ جب بھی قومی اسمبلی کا سیشن ہوگا تو میں ضرور اس پر بات کروں گی، میں ایک ایم این ہوکر نہیں کچھ کرپارہی ہوں، مجھے ڈی جی ایف آئی اے نے کال تک نہیں کی۔
رکن قومی اسمبلی نکہت شکیل نے کہا میں دوبارہ کراچی میں ایف آئی اے آفس گئی تھی اور وہاں میں نے اپنی شکایت درج کروائی ہے، میں نے انھیں بتایا کہ میں نے اتوار کو آن لائن شکایت درج کروائی تھی، وہاں سے یہ بات پتہ چلی کہ پورٹل تو کام ہی نہیں کررہا ہے۔
انھوں نے بتایا کہ یہ پورٹل اکتوبر کے شروع سے کام نہیں کررہا ہے، کتنے لوگ اس پورٹل پر شکایت درج کرواتے ہونگے، لوگوں کے مسائل کو سمجھنا ہوگا، جہاں پر کمیاں ہیں ان مسائل کو حل کرنا ہوگا۔



