spot_img

ذات صلة

جمع

مارکیٹیں کتنے بجے بند ہوں گی؟

حکومت نے ایندھن کی بچت پالیسی کے تحت مزید...

بنوں میں بارود سے بھری گاڑی پولیس اسٹیشن سے ٹکرا گئی

بنوں میں بارود سے بھری گاڑی ڈومیل پولیس اسٹیشن...

بیرسٹر گوہر کے نام پر ہیکرز نے 5 لاکھ روپے لوٹ لیے

چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کے نام پر...

’موٹر سائیکل سواروں کے لیے 100 روپے فی لیٹر سبسڈی دی جائے گی‘

وفاقی وزیر برائے خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا ہے...

ایک سال کے دوران پاکستانیوں نے سرکاری کام کیلئے کوئی رشوت نہیں دی، سروے میں حیران کن انکشاف

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے پاکستان میں کرپشن پر سیپشن سروے رپورٹ جاری کر دی، جس کے مطابق ملک میں شفافیت میں اضافہ اور کرپشن میں کمی واقع ہوئی۔

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ ملک میں بدعنوانی کے تاثر میں پولیس سرفہرست ہے، ٹینڈر اور پروکیورمنٹ دوسرے جبکہ عدلیہ تیسرے نمبر پر ہے، بدعنوانی کے تاثر میں بجلی و توانائی چوتھے اور صحت کا شعبہ پانچویں نمبر پر ہے۔

این سی پی ایس2025کی سروے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس سروے میں پاکستان میں کرپشن کے تاثر میں واضح کمی دیکھی گئی ہے۔

پاکستان میں کرپشن میں کمی اور شفافیت میں اضافہ ہوا، این سی پی ایس پاکستان میں بدعنوانی کا تاثر جانچنے کا پیمانہ ہے، 66 فیصد پاکستانیوں نے بتایا کہ12ماہ میں کسی سرکاری کام کیلئے رشوت نہیں دینی پڑی۔

60فیصدپاکستانیوں نے اتفاق کیا حکومت نے معیشت کو مستحکم کیا، 60 فیصد نے اتفاق کیا کہ آئی ایم ایف معاہدے، فیٹف گرے لسٹ سے نکلنے سے معیشت مستحکم ہوئی، ملکی معیشت زبوں حالی سے استحکام اور استحکام سے ترقی کی جانب گامزن ہے۔

43فیصدپاکستانیوں نے قوت خرید میں بہتری اور 57فیصد نے کمی کی رپورٹ دی، 51 فیصد پاکستانی چاہتے ہیں کہ فلاحی ادارے عوام سے کوئی فیس وصول نہ کریں۔

51فیصد چاہتے ہیں ٹیکس چھوٹ والی این جی اوز، اسپتال، لیبارٹری، تعلیمی وفلاحی ادارے فیس نہ لیں، 53فیصدپاکستانیوں کے مطابق فلاحی اداروں کو ڈونرز کے نام، عطیات کی تفصیل ظاہر کرنی چاہیے۔

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان کا مذکورہ سروے22 سے29 ستمبر 2025کے دوران ہوا، یاد رہے کہ یہ سروے بدعنوانی کی اصل شرح نہیں بتاتا، تاہم یہ عوامی تاثر کو ظاہر کرتا ہے۔

spot_imgspot_img