کراچی کے علاقے نیپا چورنگی کے قریب گزشتہ دنوں ایک کھلے مین ہول میں گرنے سے 3 سالہ بچہ جان کی بازی ہار گیا، لیکن کیا دیگر ممالک میں بھی بچے اسی طرح گٹروں میں گرتے ہیں۔
اس سوال کے جواب میں اے آر وائی نیوز کے پروگرام سوال یہ ہے کی میزبان ماریہ میمن نے ایک رپورٹ پیش کی ہے جس میں انہوں نے بتایا کہ دیگر ممالک کے حکمرانوں نے کس طرح اس مسئلے پر کامیابی سے قابو پایا۔
انہوں نے بتایا کہ بھارت میں سال 2014 میں ابھیان پروگرام شروع کیا گیا، جس کے ذریعے ملک کے کچھ حصوں میں لوہے کے مین ہول کور کی جگہ فائبر یا پولیمر کے کور لگائے گئے، تاکہ حادثات اور ڈھکنوں کی چوری کو ختم کیا جاسکے۔
کینیا اور نائیجیریا میں بھی مقامی اداروں نے مین ہول کورز میں لاکنگ سسٹم اور فائبر کور لگائے تاکہ چوری اور حادثات کم ہوں۔
بنگلہ دیش اورنیپال میں کچھ شہری تنظیموں اور کمیونٹی گروپس نے مقامی سطح پر ڈرین اور انفرا اسٹرکچر کی میپنگ کیلیے ڈیجٹل ٹولز اور موبائل ایپس استعمال کیے جن کے ذریعے خطرناک یا کھلے مین ہولز کی نشاندہی کرکے مقامی حکام تک معلومات پہنچائی گئیں۔
فلپائن اور انڈونیشیا نے نالیوں پر کنکریٹ یا اسٹیل سلیبیں لگا کر بچوں اور بٖڑوں کو گرنے سے بچایا۔ ایتھوپیا اور نیپال کی مقامی حکومتوں نے رات کے وقت حادثات کم کرنے کیلیے سولر ایل ای ڈی اسٹریٹ لائٹس نصب کیں۔
روانڈا اور کمبوڈیا میں میونسپل اور کمیونٹی سطح پر شہری انفرا اسٹرکچر کی مرمت کیلیے ریپڈ ریسپاس ٹیمیں کام کرتی ہیں جو ٹوٹے ہوئے ڈرین کور یا مین ہول جیسے مسائل کو مختصر وقت میں ٹھیک کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔
اس کے علاوہ ترکیہ اور سعودی عرب میں پرانے کھلے نالے مکمل طور پر انڈر گراؤنڈ بند پائپ لائن سسٹم تبدیل کیے گئے تاکہ شہریوں کیلیے راستے محفوظ رہ سکیں۔
رپورٹ کے مطابق امریکی تھنک ٹینک ’دی میڈیم‘ کے مطابق مین ہولز کے خطرات کو کمکرنے کیلیے پیشگی دیکھ بھال اور عوامی آگاہی دونوں کی ضرورت ہے لیکن کچھ اقدامات ایسے ہیں جو خطرات کو کم کرنے کیلیے اٹھائے جانے چاہئیں۔



