دور جدید میں مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کا استعمال تیزی سے فروغ پارہا ہے، لیکن سوال یہ پیدا ہورہا ہے کہ کیا اس میں بیان کی جانے والی باتیں حقائق پر مبنی ہیں؟
اس حوالے سے اے آر وائی نیوز کے پروگرام باخبر سویرا میں آئی ٹی ایکسپرٹ کنول چیمہ نے ناظرین کو اے آئی کے استعمال اور اس پر انحصار کرنے سے متعلق اہم گفتگو کی۔
انہوں نے بتایا کہ آرٹیفشل انٹیلی جینس اے آئی میں بیان کی جانے والی باتیں سو فیصد درست قرار نہیں دی جاسکتیں کیونکہ ان ماڈلز میں جو ڈیٹا فیڈ کیا جاتا ہے جو مختلف ذرائع سے حاصل کیا جاتا ہے اور ان ذرائع کو بھی مصدقہ ذرائع نہیں کہا جاسکتا۔
کنول چیمہ نے بتایا کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے چھ ڈومینز ہیں، جس میں مشین لرننگ، ڈیپ لرننگ، روبوٹکس، ایکسپرٹ سسٹم، مبہم منطق (فُزی لاجک) نیچرل لینگویج پروسیسنگ شامل ہیں۔
اس مشین لرننگ کو جو بتایا جائے گا یا اس میں فیڈ کیا جائے گا وہ وہیں تک محدود رہے گا جب تک کہ اس میں مزید نئی معلومات کو شامل نہ کردیا جائے۔
ایک سوال اور بھی ہے کہ اے آئی یعنی مصنوعی ذہانت کا انسانی زندگی پر کیا اثرات ہو سکتے ہیں؟اس نے پوری دنیا کو حیرت میں ڈال رکھا ہے۔
اس دور اور آنے والے جدید دور میں اے آئی یعنی مصنوعی ذہانت جیسی ٹیکنالوجی یقیناً انسانیت کے لیے فائدہ اور نقصانات دونوں اپنے ساتھ لارہی ہے تاہم اس پر اندھا اعتماد کسی صورت نہیں کرنا چاہیے خاص طور پر تب جب آپ اس سے اپنی صحت اور علاج سے متعلق جاننا چاہیں۔



