استادوں نے طالبعلم کے ساتھ ظلم کی انتہا کردی، سرکاری اسکول میں تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے اس کی پتلون میں بچھو چھوڑ دیا۔
بھارتی ریاست ہماچل پردیش تعصب کی بنیاد پر ایک نہایت افسوسنا واقعہ پیش آیا ہے، ہیڈ ماسٹر سمیت سرکاری اسکول کے تین اساتذہ کے خلاف ایک دلت لڑکے کے ساتھ وحشیانہ تشدد کرنے اور مبینہ طور پر اس کی پتلون میں بچھو رکھنے کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
یہ واقعہ شملہ شہر کے روہڑو سب ڈویژن کے ایک سرکاری پرائمری اسکول میں پیش آیا جس کے بعد لڑکے کے والد کی طرف سے پولیس کو شکایت درج کرائی گئی۔
ایف آئی آر کے مطابق بچے کو تقریباً ایک سال سے ہیڈ ماسٹر دیویندر اور اساتذہ بابو رام اور کریتکا ٹھاکر نے جسمانی تشدد کا نشانہ بنارہے ہیں۔
مبینہ طور پر بار بار تینوں اساتذہ کی جانب سے ہونے والے تشدد سے لڑکے کے کان کو کافی نقصان پہنچا اور اس سے کئی بار خون بھی نکل آیا جبکہ طالبعلم کے کان کے پردے کو بھی نقصان پہنچا۔
شکایت میں مزید کہا گیا ہے کہ اساتذہ نے طالبعلم کو زبردستی ٹوائلٹ میں لے گئے اور وہاں اس کے پینٹ کے اندر بچھو ڈال دیا اور بعد میں دھمکی دی کہ اگر اس نے کسی کو بتایا تو اسے نکال دیں گے۔
لڑکے کے خاندان کو پولیس سے رجوع کرنے یا اس بےرحمانہ سلوک کے بارے میں آن لائن پوسٹ کرنے کی پاداش میں سنگین نتائج کا کہا گیا جس میں ‘جلائے جانے’ کی دھمکیاں دی گئیں۔
پولیس نے ملزمان کے خلاف جوینائل جسٹس ایکٹ اور بھارتیہ نیا سنہتا کی متعلقہ سیکشنز کے تحت مقدمہ درج کیا ہے اور سینئر افسران کیس کی مزید تفتیش کا جائزہ لے رہے ہیں۔
سوال کا جواب بھولنے پر خاتون استاد کا 7 سالہ طالبعلم پر لوہے کے اسکیل سے وحشیانہ تشدد



