spot_img

ذات صلة

جمع

مارکیٹیں کتنے بجے بند ہوں گی؟

حکومت نے ایندھن کی بچت پالیسی کے تحت مزید...

بنوں میں بارود سے بھری گاڑی پولیس اسٹیشن سے ٹکرا گئی

بنوں میں بارود سے بھری گاڑی ڈومیل پولیس اسٹیشن...

بیرسٹر گوہر کے نام پر ہیکرز نے 5 لاکھ روپے لوٹ لیے

چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کے نام پر...

’موٹر سائیکل سواروں کے لیے 100 روپے فی لیٹر سبسڈی دی جائے گی‘

وفاقی وزیر برائے خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا ہے...

اسموگ پیدا ہونے کی وجوہات، کیسے بچا جائے؟

لاہور (30 اکتوبر 2025): موسم سرما کے آغاز کے ساتھ ہی اسموگ کیوں پیدا ہوتا ہے اور اس سے کیسے بچا جا سکتا ہے ماہر ماحولیات نے بتا دیا۔

گزشتہ کئی سال سے لاہور سمیت پنجاب کے اکثر علاقے موسم سرما کے آغاز کے ساتھ ہی اسموگ کے زیر اثر آ جاتے ہیں۔ یہ آلودہ فضا عوام بالخصوص سانس اور پھیپھڑوں کے امراض میں مبتلا مریضوں کے لیے بہت خطرناک ہوتی ہے۔

اسموگ کیسے پیدا ہوتی ہے اور اس سے کیسے بچا جا سکتا ہے۔ اس حوالے سے ورلڈ وائیڈ فنڈ (ڈبلیو ڈبلیو ایف) پاکستان کی ڈٓائریکٹر نظیفہ بٹ نے سیر حاصل گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اسموگ بننے میں انسان کا اپنا طرز عمل سب سے زیادہ ذمہ دار ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک جانب ہماری آبادی کس رفتار سے بڑھ رہے ہے۔ اس کے ساتھ ہر سال ہمارے ٹرانسپورٹ سیکٹر میں کتنی گاڑیوں کا اضافہ ہو رہا ہے۔ اس کے علاوہ ہم جو ہر سال شہروں کو وسیع کرتے جا رہے ہیں، جس کے لیے نئی تعمیرات کرنی پڑ رہی ہیں۔ یہ سب اسموگ بڑھنے کی وجوہات ہیں۔

نظیفہ بٹ نے کہا کہ نئی تعمیرات چاہے وہ روڈ ہوں یا پُل یا پھر ہاؤسنگ سوسائٹیز، اس کے لیے ہم اپنا سبزہ ختم اور درختوں کی کٹائی کر رہے ہیں اور یہ ماحول پر منفی اثر ڈال رہا ہے۔

انہوں نے اس کی ایک اور بڑی وجہ ملک میں استعمال ہونے والا فیول بھی قرار دیا اور کہا کہ عالمی سطح پر یورو 5 اور 6 استعمال کیا جا رہا ہے جب کہ پاکستان میں 2 یا اس سے تھوڑا آگے بڑھے ہیں۔ یہ ایندھن کارخانوں اور ٹرانسپورٹ سیکٹر دونوں میں استعمال ہو رہا ہے جو ہوا میں شامل ہو کر اسموگ بنا رہا ہے۔ اس کے علاوہ فصلوں کا فضلہ جو جلایا جاتا ہے، یہ بھی صورتحال کو خطرناک بنا رہا ہے۔

نظیفہ بٹ نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ وہ الیکٹرک وہیکل کی طرف جائے، مگر اسمیں ابھی وقت لگے گا۔ حکومت پنجاب نے اسموگ کی روک تھام کے لیے کئی اہم اقدامات کیے ہیں۔ تاہم ضروری ہے کہ یہ اقدامات ایڈھاک بنیادوں کے بجائے مستقل بنیادوں پر کیے جائیں اور سارا سال ان کی پریکٹس کی جائے۔

 

spot_imgspot_img