spot_img

ذات صلة

جمع

مارکیٹیں کتنے بجے بند ہوں گی؟

حکومت نے ایندھن کی بچت پالیسی کے تحت مزید...

بنوں میں بارود سے بھری گاڑی پولیس اسٹیشن سے ٹکرا گئی

بنوں میں بارود سے بھری گاڑی ڈومیل پولیس اسٹیشن...

بیرسٹر گوہر کے نام پر ہیکرز نے 5 لاکھ روپے لوٹ لیے

چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کے نام پر...

’موٹر سائیکل سواروں کے لیے 100 روپے فی لیٹر سبسڈی دی جائے گی‘

وفاقی وزیر برائے خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا ہے...

بجلی کی قیمت میں کمی کا فائدہ عوام کو کیوں نہیں ملتا؟ حقیقت سامنے آگئی

کے الیٹرک صارفین کے لیے گزشتہ دنوں ایک اچھی خبر سامنے آئی تھی کہ اگلے ماہ سے بجلی کے بلوں میں ریلیف ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ بجلی کی قیمت میں کمی کا فائدہ عوام کو نہیں ملے گا۔

نیپرا (نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی) کی جانب سے جو سبسڈی عوام کو دینے کا کہا گیا تھا وہ کےالیکٹرک شہر قائد کے عوام کو نہیں دینا چاہ رہی یا نہیں دے سکتی۔

اس حوالے سے اے آر وائی نیوز کے پروگرام باخبر سویرا میں انرجی ایکسپرٹ ڈاکٹر خالد وحید نے اس سبسڈی کی حقیقت بیان کی۔

ان کا کہنا تھا کہ جس طرح پورے پاکستان میں ایک نیشنل یونیفارم ٹیرف رائج ہے اگر کوئی کمپنی اس سے تجاوز کرتے ہوئے اس سے زیادہ ٹیرف لاتی ہے تو حکومت اسے سبسڈائز کرتی ہے اور اگر ٹیرف کم ہوتا ہے تو اس کا سرچارج بھی حکومت کے پاس ہی جارہا ہوتا ہے اس کا عوام سے کوئی واسطہ نہیں۔

نیپرا کے احکامات پر عمل درآمد نہ ہونے سے متعلق ایک سوال کہ جب نیپرا قیمت بڑھانے کا کہتا ہے تو اسے من و عن تسلیم کرکے فوری عمل درآمد کردیا جاتا ہے لیکن ریٹ کم کرنے کے احکامات کیلیے لیت و لعل سے کیوں کام لیا جاتا ہے؟۔

اس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں جو ایوریج ٹیرف رائج ہے اگر کمپنیاں اپنی کاسٹ آف سروس کے حساب سے ٹیرف چارج کرتیں تو اس وقت پورے ملک میں بجلی کی قیمت 35روپے اور کراچی میں 39 روپے فی یونٹ ہونا تھی تو پھر نیپرا کا یہ فیصلہ بھی کراچی کے شہریوں کو ریلیف دینے کیلیے کےالیکٹرک پر لاگو ہوتا۔

ایک اور سوال کہ ترجمان کے الیکٹرک کے مطابق نیپرا کی جانب سے قیمت میں کی گئی کمی تو صارفین کو نہیں دی جائے گی لیکن اس کے اثرات صارفیں کو ضرور ملیں گے؟ تو کیسے ملیں گے۔

اس کے جواب میں ڈاکٹر خالد وحید نے بتایا کہ کے الیکٹرک کی کاسٹ کا کچھ حصہ گورنمنٹ کی طرف سے سبسڈی سے آتا تھا، اور وہ لوگوں سے کم یا ایوریج پر چارج کرتے تھے۔ اب چونکہ حکومت ان کو سبسڈی نہیں دے رہی ہوگی اس لیے وہ لوڈ شیڈنگ بڑھا رہے ہوں گے۔ یا اپنے جنریشن سسٹم کو اپڈیٹ کررہے ہوں گے اور پھر اگلی بار ٹیرف پٹیشن میں اس سبسڈی کو  مزید بڑھانے کی بات کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں اس ماڈل کو چینج کرنا ہوگا اس کیلیے بجلی کمپنیاں، وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو مل کر بیٹھنا ہوگا۔

اگلے ماہ بجلی کے بلوں میں ریلیف! صارفین کے لیے بڑی خبر

spot_imgspot_img