ماحولیاتی ادارے کا کہنا ہے کہ امریکی کمپنیاں ایشیا میں زہریلے ای ویسٹ کا سونامی بھیج رہی ہیں۔
ماحولیاتی ادارہ بیسل ایکشن نیٹ ورک کی رپورٹ کے مطابق امریکا ترقی پذیر ممالک میں ای ویسٹ منتقل کر رہا ہے جس میں امریکی بروکرز لاکھوں ٹن ناکارہ الیکٹرک سامان ایشیائی و جنوبی ممالک بھیج رہے ہیں۔
ملائیشیا ای ویسٹ کی بڑی منزل ہے جو امریکا کی مجموعی تجارت کا 6 فیصد فضلے پر مشتمل ہے جب کہ 10بڑی امریکی کمپنیاں ای ویسٹ ان ممالک کو بھیجتی ہیں جنہوں نے درآمد پر پابندی لگائی ہے۔
ای ویسٹ کی غیرقانونی برآمدات سے کمپنیوں کے منافع میں اضافہ اور ماحولیاتی تباہی بڑھی ہے۔
بیسل ایکشن نیٹ ورک کی رپورٹ میں تخمینہ لگایا گیا ہے کہ کاروبار ماہانہ 20 کروڑ ڈالر سے زائد مالیت کا ہے، ای ویسٹ جنوب مشرقی ایشیا کےغیرمحفوظ کباڑ خانوں میں پگھلایا جاتا ہے جس میں محنت کش بغیر حفاظتی سامان کے خطرناک کام کرتے ہیں۔
اقوام متحدہ کے مطابق 2022 میں دنیا بھر میں ای ویسٹ 6کروڑ 20 لاکھ میٹرک ٹن تک پہنچ گیا تھا اور 2030 تک عالمی ای ویسٹ 8کروڑ 20لاکھ میٹرک ٹن تک پہنچنے کا خدشہ ہے۔



