پاک افغان طورخم بارڈر کو آمد و رفت کیلئے جلد کھولے جانے کا امکان ہے، دونوں ممالک کے حکام نے اتفاق کرلیا۔
اے آر وائی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے پاکستانی سفارتی حکام نے بتایا کہ دونوں ملکوں کے حکام نے طورخم بارڈر کھولنے پر اتفاق کرلیا ہے۔
حکام کے مطابق اگر کوئی اور تنازع نہ ہوا تو اگلے 24 سے 48 گھنٹے میں پاک افغان طورخم بارڈر کھول دیا جائے گا۔
اس سلسلے میں تیاریاں جاری ہیں، سرحد پر امپورٹ و ایکسپورٹ اسکینر دوبارہ نصب کردیے گئے ہیں جبکہ بارڈر پر تعینات کسٹم اور دیگر اداروں کے اہلکاروں کی ڈیوٹیاں بھی لگادی گئیں۔
بارڈر حکام کا مؤقف ہے کہ اعلیٰ حکام سے احکامات موصول ہوتے ہی بارڈر کھول دیا جائے گا، جس کے بعد دونوں ملکوں میں باضابطہ قافلوں کی آمدورفت شروع ہوجائے گی۔
پاک افغان طورخم بارڈر گزشتہ 9 روز سے بند ہے، تجارت اور پیدل آمدورفت بدستور معطل رہی، چمن، طورخم، غلام خان اور انگور اڈا پر سیکڑوں گاڑیاں پھنس گئیں، مال بردار گاڑیوں میں سامان خراب ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا۔
یاد رہے کہ پاک افغان سرحد گزشتہ دنوں افغانستان کی جانب سے دراندازی کے باعث بند کی گئی تھی۔ تاہم دوحہ میں پاک افغان جنگ بندی معاہدے کے بعد حالات معمول پر آنے کا قوی امکان ہے۔ یہ سرحد دنیا کے اُن مصروف ترین سرحدی راستوں میں سے بھی ایک ہے جہاں روزانہ ہزاروں کی تعداد میں لوگوں کی آمد ورفت اور بڑے پیمانے پر تجارت کا تبادلہ ہوتا ہے۔



