spot_img

ذات صلة

جمع

مارکیٹیں کتنے بجے بند ہوں گی؟

حکومت نے ایندھن کی بچت پالیسی کے تحت مزید...

بنوں میں بارود سے بھری گاڑی پولیس اسٹیشن سے ٹکرا گئی

بنوں میں بارود سے بھری گاڑی ڈومیل پولیس اسٹیشن...

بیرسٹر گوہر کے نام پر ہیکرز نے 5 لاکھ روپے لوٹ لیے

چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کے نام پر...

’موٹر سائیکل سواروں کے لیے 100 روپے فی لیٹر سبسڈی دی جائے گی‘

وفاقی وزیر برائے خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا ہے...

افغان مہاجرین کو باعزت طریقے سے واپس بھیجا جائے گا، وزیر دفاع خواجہ آصف

وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ افغان طالبان سے جو معاہدہ دستخط کیا ہے وہ خفیہ ہی رہے گا، افغان مہاجرین کو باعزت طریقے سے اپنے ملک بھیجا جائے گا۔

اے آر وائی نیوز کے پروگرام خبر میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاک افغان جنگ بندی معاہدے میں افغان مہاجرین کی واپسی بھی شامل ہے، افغان مہاجرین کی واپسی سے متعلق ہمارا مؤقف وہی ہے جو پہلے تھا۔

وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ کالعدم ٹی ٹی پی کی سرپرستی اور جنگ بندی معاہدے پر برقرار رکھنا شامل ہے، اگر دوبارہ دراندازی ہوتی ہے توجنگ بندی معاہدہ ٹوٹنے کا خدشہ ہے۔

وزیردفاع خواجہ آصف نے بتایا کہ معاہدے میں افغان طالبان رجیم نے کالعدم ٹی ٹی پی کی سرپرستی ختم کرنے پراتفاق کیا، غیرقانونی افغان باشندوں کی واپسی اور تجارت بھی معاہدے کا حصہ ہے۔ 25 اکتوبر کو استنبول مذاکرات میں مزید بات چیت ہوگی۔

افغان رہنما کیا بھڑکیں مارتے ہیں اس کی حیثیت نہیں، دونوں ملکوں کے درمیان انٹرنیشنل بارڈرہے، اٹک تک کی بات کرنے والے بھی جانتے ہیں کہ طورخم بارڈر کتنی بڑی حقیقت ہے۔

انہوں نے کہا کہ بارڈر کے معاملے پر افغان رجیم کا اعتراض ہے کہ یہ معاملہ ڈیورنڈ لائن کا ہے، جبکہ یہ معاملہ آج کا نہیں بہت عرصے سے ہے، پاکستان اور افغانستان کے درمیان ایک انٹرنیشنل بارڈر موجود ہے، نام نہاد ڈیورنڈ لائن کے معاملے کو پاکستان نے کبھی قبول نہیں کیا، کتابوں یا گفتگو میں معاملات الگ میدانی سطح پر ہی اصل صورتحال ہوتی ہے۔

وزیردفاع نے کہا کہ اس وقت افغان طالبان رجیم کے بیانات اہم نہیں، معاہدہ اہم ہے، افغان طالبان کچھ بھی کہیں اصل گفتگو معاہدے میں درج ہے، افغان طالبان رجیم نے متنازع بیانات دے کر اپنےلوگوں کو مطمئن کرنا ہے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ اگر یہ لوگ اتنے ہی محب وطن تھے تو اپنے ملک سے کیوں نہیں لڑے یہاں کیوں آئے، ثالثوں کے کردار اہم ہوتے ہیں فریقین سے اچھے تعلقات رکھتے ہیں۔

بیانات ہرطرف سے دیئے جاتے ہیں لیکن اصل چیز معاہدہ ہوتی ہے، معاملہ جنگ وجدل کا ہے تو ظاہرہے سیکیورٹی حکام مذاکرات میں شرکت کرتے ہیں، قطر اور ترکیہ کے بھی اعلیٰ سیکیورٹی حکام نے مذاکرات میں اہم کردار ادا کیا۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان اور افغان طالبان رجیم کے درمیان معاہدہ نومولود سطح پر ہے، 25 اکتوبر کو مزید مذاکرات ہوں گے اس کے بعد اصل صورتحال سامنے آئے گی، قطر اور ترکیہ چاہتے ہیں کہ پاکستان میں امن قائم ہو، دونوں ممالک چاہتے ہیں پاکستان کو اپنے ملک میں امن کیلئے جنگ نہ کرنا پڑے، قطر اور ترکیہ نیک نیتی کے ساتھ ثالثی کررہے ہیں ہمیں ان پرپورا بھروسہ ہے۔

افغان طالبان رجیم نےکالعدم ٹی ٹی پی کی سرپرستی ختم کرنےپر اتفاق کیا ہے، افغان طالبان رجیم نے معاہدے میں غیرقانونی افغانیوں کی واپسی پر اتفاق کیا، معاہدے میں افغان طالبان رجیم نے سیزفائر برقرار رکھنے پر بھی اتفاق کیا ہے۔

25اکتوبر کو معاہدے میں مزید چیزوں پر بات چیت ہوگی۔ 25اکتوبر کو جو اجلاس ہوگا اس میں مزید چیزیں طے کی جائیں گی، مستقبل کی اصلی تصویر مذاکرات کے دوسرےراؤنڈ کے بعد سامنے آئے گی۔

spot_imgspot_img