پشاور : (13 اکتوبر 2025) گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کے استعفے پر اعتراض لگا دیا۔
اے آر وائی نیوز کی رپورٹ کے مطابق گورنر خیبرپختونخوا کا خط علی امین گنڈاپور کو موصول ہوگیا۔
علی امین گنڈا پورکے 2 مبینہ استعفے گورنر ہاؤس کو موصول ہوئے، دونوں استعفوں پر دستخط مختلف اور غیر مشابہ قرار دیے گئے ہیں۔
گورنر فیصل کریم کنڈی نے استعفوں کی تصدیق کیلئے وزیراعلیٰ کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا
ان کو 15 اکتوبر کو سہ پہر 3 بجے گورنر ہاؤس طلب کیا گیا ہے۔

گورنر خیبرپختونخوا نے کہا کہ معاملہ آئین پاکستان کے مطابق طے کیا جائے گا، ذرائع کے مطابق گورنر خیبرپختونخوا اس وقت شہر سے باہر ہیں، 15 اکتوبر کو واپسی متوقع ہے۔
After due consideration, Chief Minister Khyber Pakhtunkhwa resignation has been returned with observation. pic.twitter.com/dAfthhTBqW
— Faisal Karim Kundi (@fkkundi) October 12, 2025
گورنر خیبرپختونخوا نے علی امین گنڈاپور کو طلب کرنے کا خط سوشل میڈیا پر بھی پوسٹ کردیا ہے۔ اس حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ گورنر کے پی کی جانب سے جاری کردہ خط کے بعد آج نئے قائد ایوان کا انتخاب مشکوک ہوگیا ہے۔
مزید پڑھیں : سہیل آفریدی گنڈا پور سے دو ہاتھ آگے ہے، کامران مرتضیٰ
اسلام آباد : جے یو آئی کے سینیٹر کامران مرتضیٰ نے علی امین گنڈا پور کے استعفے میں قانونی نقائص کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا ہے کہ سہیل آفریدی گنڈا پور سے دو ہاتھ آگے ہے۔
سینیٹر کامران مرتضیٰ نے اے آر وائی نیوز کے ساتھ گفتگو میں کہا کہ علی امین گنڈاپور کا استعفیٰ غائب ہے اور استعفے میں دو قانونی نقائص ہیں، آئینی تقاضوں کے مطابق ان کا استعفیٰ قانون کے مطابق نہیں ہے۔
جے یو آئی کے سینیٹر کا کہنا تھا کہ علی امین کے استعفے میں بانی پی ٹی آئی کی ہدایت کا ذکر کیا گیا ہے اور قانون کے مطابق بانی پی ٹی آئی پارٹی کے سربراہ تو نہیں ہیں۔
گورنر کے پی کا استعفے پر اعتراض : علی امین گنڈاپور کا ردعمل آگیا



