spot_img

ذات صلة

جمع

مارکیٹیں کتنے بجے بند ہوں گی؟

حکومت نے ایندھن کی بچت پالیسی کے تحت مزید...

بنوں میں بارود سے بھری گاڑی پولیس اسٹیشن سے ٹکرا گئی

بنوں میں بارود سے بھری گاڑی ڈومیل پولیس اسٹیشن...

بیرسٹر گوہر کے نام پر ہیکرز نے 5 لاکھ روپے لوٹ لیے

چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کے نام پر...

’موٹر سائیکل سواروں کے لیے 100 روپے فی لیٹر سبسڈی دی جائے گی‘

وفاقی وزیر برائے خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا ہے...

پیپلزپارٹی آزاد کشمیر کا حکومت سے علیحدگی کا فیصلہ، ذرائع

مظفرآباد : پیپلزپارٹی آزاد کشمیر  نے چوہدری انوارالحق حکومت سے علیحدگی کا فیصلہ کرلیا، کل کراچی میں اجلاس طلب کرلیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق آزاد کشمیر میں سیاسی ہلچل عروج پر پہنچ گئی، وزیراعظم چوہدری انوارالحق کو اپنی حکومت بچانے میں مشکلات درپیش ہیں۔

اس حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ پیپلزپارٹی کی مرکزی قیادت نے اپنا مرکزی اجلاس 10 اکتوبر کو کراچی میں طلب کرلیا ہے۔

ذرائع کے مطابق فریال تالپور کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں حکومت سے علیحدگی کا حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔

اجلاس میں پیپلزپارٹی آزاد کشمیر کے مرکزی رہنما قیادت کو حکومت سےعلیحدگی پر اعتماد میں لیں گے، اعلیٰ قیادت کی رضامندی کے بعد پیپلزپارٹی آزاد کشمیرمیں اپنا وزیر اعظم لائے گی۔

ذرائع کے مطابق اجلاس میں آزاد کشمیر کے نئے وزیراعظم کے نام کو بھی فائنل کیا جائے گا، ن لیگ اور پیپلزپارٹی آزاد کشمیر کے صدور اہم وفاقی شخصیت کے ہمراہ کشمیر ہاؤس پہنچے۔

شاہ غلام قادر اور چوہدری یاسین نے وزیراعظم آزاد کشمیر چوہدری انوارالحق کی رہائش گاہ پہنچ کر ان کو استعفے پر آمادہ اور اسمبلی نہ توڑنے پرقائل کریں گے۔

ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ چوہدری انوار الحق نے حالیہ آزاد کشمیر کے حالات میں سستی روی کا مظاہرہ کیا، وزیر اعظم آزاد کشمیر حالات کو معمول پر لانے میں ناکام رہے۔

مزید پڑھیں : آزاد کشمیر حکومت میں شامل مہاجر وزرا کا استعفیٰ دینے سے انکار، ذرائع

یاد رہے کہ وفاقی حکومت اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان طے پانے والے معاہدے میں مہاجرین وزرا کو ہٹانے کی شق شامل تھی۔

تاہم اب ذرائع بتا رہے ہیں کہ وزیر اعظم آزاد کشمیر چوہدری انوار الحق نے معاہدے پر مہاجرین وزرا کو استعفیٰ دینے کا کہا لیکن انہوں نے مؤقف اپنایا کہ استعفیٰ دینے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

وزیر اعظم آزاد کشمیر کی جانب سے مہاجر وزرا کو ڈی نوٹیفائی کیے جانے کا امکان ہے، وزرا کی تعداد کم کرنے کیلیے کابینہ تحلیل کرنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔

spot_imgspot_img