spot_img

ذات صلة

جمع

مارکیٹیں کتنے بجے بند ہوں گی؟

حکومت نے ایندھن کی بچت پالیسی کے تحت مزید...

بنوں میں بارود سے بھری گاڑی پولیس اسٹیشن سے ٹکرا گئی

بنوں میں بارود سے بھری گاڑی ڈومیل پولیس اسٹیشن...

بیرسٹر گوہر کے نام پر ہیکرز نے 5 لاکھ روپے لوٹ لیے

چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کے نام پر...

’موٹر سائیکل سواروں کے لیے 100 روپے فی لیٹر سبسڈی دی جائے گی‘

وفاقی وزیر برائے خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا ہے...

اسرائیلی قید سے رہا ہونیوالی ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ نے کیا انکشاف کیا؟

اسرائیلی قید سے رہا ہونے والی ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ نے کہا کہ نسل کشی روکنا عالمی برادری کی قانونی ذمہ داری ہے۔

ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کے سامنے نسل کُشی ہورہی ہے، اب کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ وہ لاعلم تھا، عالمی نظام جنگی جرائم روکنے میں ناکام ہوگیا، فلسطینیوں سے غداری کررہا ہے۔

گریٹا تھنبرگ نے کہا کہ تاریخ کی سب سے بڑی اسرائیل کے غیرانسانی محاصرے کو توڑنے کی کوشش تھی، اسرائیل غزہ کی پوری آبادی مٹانے کی کوشش کررہا ہے۔

ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ نے مزید کہا کہ انسان اتنے سنگدل کیسے ہوسکتے ہیں کہ جان کر لاکھوں افراد کو غیرقانونی محاصرے میں رکھے۔

یہ بھی پڑھیں: ’مشرق وسطیٰ میں حقیقی امن فلسطینی ریاست کے قیام کے بغیر ممکن نہیں‘

خیال رہے کہ اسرائیل نے صمود فلوٹیلا کے مزید 170 کارکنان کو ڈی پورٹ کردیا ہے، رہائی پانے والے کارکن کو یونان اور سلوواکیہ پہنچایا گیا۔

برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل کا کہنا تھا کہ پیر کے روز مہم چلانے والی گریٹا تھنبرگ اور ایک بین الاقوامی فلوٹیلا کے دیگر 170 کارکنوں کو ملک بدر کیا گیا، انھیں گزشتہ ہفتے غزہ کو امدادی سامان پہنچانے سے روکا گیا تھا۔

یونان اورسلوواکیہ پہنچائے گئے صمود فلوٹیلا کے کارکنان میں گریٹا تھنبرگ شامل ہیں جبکہ ڈی پورٹ کارکنان کا تعلق یونان، اٹلی، فرانس، آئرلینڈ، سویڈن اور پولینڈ سے ہے۔

اس کے علاوہ جرمنی، بلغاریہ، لتھوانیا، آسٹریا، لکسمبرگ اور فن لینڈ کے کارکن بھی شامل ہیں جبکہ ڈنمارک، سلوواکیہ، سوئٹزرلینڈ، ناروے، برطانیہ، سربیا اور امریکا کے شہری بھی ڈی پورٹ ہونے والوں میں موجود تھے۔

اسرائیل اور حماس میں بالواسطہ مذاکرات شروع

spot_imgspot_img