spot_img

ذات صلة

جمع

مارکیٹیں کتنے بجے بند ہوں گی؟

حکومت نے ایندھن کی بچت پالیسی کے تحت مزید...

بنوں میں بارود سے بھری گاڑی پولیس اسٹیشن سے ٹکرا گئی

بنوں میں بارود سے بھری گاڑی ڈومیل پولیس اسٹیشن...

بیرسٹر گوہر کے نام پر ہیکرز نے 5 لاکھ روپے لوٹ لیے

چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کے نام پر...

’موٹر سائیکل سواروں کے لیے 100 روپے فی لیٹر سبسڈی دی جائے گی‘

وفاقی وزیر برائے خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا ہے...

سال 2025 کا آخری سورج گرہن، کیا پاکستان میں دیکھا جاسکے گا؟

اسلام آباد: رواں سال کا آخری سورج گرہن 21 ستمبر کو ہوگا تاہم پاکستان میں نہیں دیکھا جاسکے گا، صرف مخصوص علاقوں میں دکھائی دے گا۔

تفصیلات کے مطابق فلکیات کے شوقین افراد کے لیے ایک اور دلکش مظاہرہ سامنے آنے والا ہے۔ رواں سال کا آخری سورج گرہن 21 اور 22 ستمبر کی درمیانی شب کو ہوگا، تاہم یہ پاکستان میں نظر نہیں آئے گا۔

محکمہ موسمیات نے بتایا کہ سورج گرہن کا آغاز پاکستانی وقت کے مطابق 21 ستمبر کی رات 10 بجکر 30 منٹ پر ہوگا، عروج 12 بجکر 42 منٹ پر آئے گا جبکہ اختتام 22 ستمبر کی رات 2 بجکر 54 منٹ پر ہوگا۔ یہ مظاہرہ تقریباً چار گھنٹے جاری رہے گا۔

یہ سورج گرہن صرف جنوبی نصف کرے کے مخصوص علاقوں میں دکھائی دے گا، جن میں نیوزی لینڈ، آسٹریلیا کے کچھ حصے، جنوبی بحرالکاہل اور انٹارکٹیکا شامل ہیں۔ اس دوران سورج کا منظر دلکش ہلالی شکل اختیار کرلے گا۔

محکمہ فلکیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ 2025 میں مجموعی طور پر چار گرہن ہوں گے جن میں دو سورج گرہن اور دو چاند گرہن شامل ہیں۔ پاکستان اس سال ہونے والے دونوں سورج گرہن نہیں دیکھ سکے گا، اگلا مکمل سورج گرہن 12 اگست 2026 کو ہوگا، جو گرین لینڈ، آئس لینڈ، اسپین، روس اور پرتگال کے کچھ حصوں میں دکھائی دے گا۔

سورج گرہن کیا ہوتا ہے؟

سورج گرہن اس وقت ہوتا ہے جب چاند زمین اور سورج کے درمیان آکر سورج کی روشنی کو جزوی یا مکمل طور پر روک لیتا ہے۔ یہ منظر کبھی مکمل سورج گرہن، کبھی جزوی، کبھی انولر (Ring of Fire) اور کبھی نایاب ہائبرڈ کی صورت میں نظر آتا ہے۔

ماہرین کے مطابق سورج اور چاند کے سائز اور فاصلے میں تناسب ایسا ہے کہ دونوں زمین سے دیکھنے پر تقریباً ایک جیسے دکھائی دیتے ہیں، اسی وجہ سے یہ منفرد فلکیاتی منظر ممکن ہوتا ہے۔

spot_imgspot_img