(2 جولائی 2026): بولی وڈ اداکارہ روینہ ٹنڈن کا کہنا ہے کہ لوگوں کو ہنسانا اور خوش کرنا اب 1990 کی دہائی کے مقابلے میں کہیں زیادہ مشکل ہوگیا ہے۔
کئی مقبول کامیڈی فلموں کا حصہ رہنے والی روینہ ٹنڈن نے حال ہی میں دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ آج کے فلمسازوں کو بہت زیادہ محتاط رہنا پڑتا ہے، کیونکہ ایک چھوٹا سا مذاق بھی سوشل میڈیا پر تنقید کا باعث بن سکتا ہے۔
روینہ ٹنڈن نے کہا کہ 90 کی دہائی میں جس تفریحی اور بے فکر مزاح سے شائقین لطف اندوز ہوتے تھے، اب اسے دوبارہ تخلیق کرنا مشکل ہے، آج کسی کو ناراض کیے بغیر لوگوں کو ہنسانا شاید تلوار کی دھار پر چلنے جیسا ہے، 90 کی دہائی میں ہماری فلموں میں ایک بے باک، معصومانہ اور بالکل بے خوف دیوانگی ہوا کرتی تھی، گووندا اور میں صرف اپنے فطری انداز میں ردعمل دیتے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: روینہ ٹنڈن نے شاہ رخ خان کی فلم ’ڈر‘ کی آفر مسترد کرنے کی وجہ بتا دی
’ہم یہ زیادہ نہیں سوچتے تھے کہ کوئی مذاق انٹرنیٹ پر 15 سیکنڈ کے کلپ میں کیسا لگے گا یا کوئی ڈائیلاگ سوشل میڈیا پر بحث کا باعث بنے گا یا نہیں۔ 90 کی دہائی کا وہ روایتی، مکمل طور پر کردار پر مبنی اور کھل کر کیا جانے والا مزاح اب نایاب ہو چکا ہے کیونکہ فلمساز مسلسل خود پر شک کرتے رہتے ہیں۔ ہم کچھ زیادہ ہی محتاط ہوگئے ہیں، اور کامیڈی کو سانس لینے کیلیے آزادی کی سخت ضرورت ہے۔‘
واضح رہے کہ روینا ٹنڈن کئی کامیاب کامیڈی فلموں کا حصہ رہ چکی ہیں۔ بولی وڈ اداکارہ اب احمد خان کی ہدایت کاری میں بننے والی فلم ’ویلکم ٹو دی جنگل‘ کے ساتھ دوبارہ کامیڈی کی صنف میں واپس آئی ہیں۔ واپسی کے بارے میں بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس صنف نے ان کے کیریئر میں اہم کردار ادا کیا ہے اور ایک اداکارہ کے طور پر ان کی صلاحیتوں کو نکھارنے میں مدد کی ہے۔



